سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: صَدَاقِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے مہر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1886
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ:" كَانَ صَدَاقُهُ فِي أَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَنَشًّا هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ؟ هُوَ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، تم جانتے ہو نش کیا ہے؟ یہ آدھا اوقیہ ہے، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1886]
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کا حقِ مہر کتنا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کا حقِ مہر بارہ «أُوقِيَّة» ”اوقیہ“ اور «نَشّ» ”نش“ تھا۔ کیا تجھے معلوم ہے «نَشّ» ”نش“ کیا ہوتا ہے؟ وہ آدھا «أُوقِيَّة» ”اوقیہ“ ہوتا ہے۔ یہ (کل مقدار) پانچ سو درہم ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 13 (1426)، سنن ابی داود/النکاح 29 (2105)، سنن النسائی/النکاح 66 (3347)، (تحفة الأشراف: 17739)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/94)، سنن الدارمی/النکاح 18 (2245) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، ساڑھے بارہ اوقیہ کے کل پانچ سو درہم ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1887
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ :" لَا تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ، كَانَ أَوْلَاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُثَقِّلُ صَدَقَةَ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ، وَيَقُولُ: قَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ، وَكُنْتُ رَجُلًا عَرَبِيًّا مَوْلِدًا، مَا أَدْرِي مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقُ الْقِرْبَةِ".
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر مہنگے نہ کرو، اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں عزت کی بات ہوتی یا اللہ تعالیٰ کے یہاں تقویٰ کی چیز ہوتی تو اس کے زیادہ حقدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا، اور مرد اپنی بیوی کے بھاری مہر سے بوجھل رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مہر اس کے دل میں بیوی سے دشمنی کا سبب بن جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے تیرے لیے تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ مشک کی رسی بھی اٹھائی، یا مجھے مشک کے پانی کی طرح پسینہ آیا۔ ابوعجفاء کہتے ہیں: میں پیدائش کے اعتبار سے عربی تھا ۱؎، عمر رضی اللہ عنہ نے جو لفظ «علق القربۃ» یا «عرق القربۃ» کہا: میں اسے نہیں سمجھ سکا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1887]
حضرت ابوالعجفاء سلمی رحمہ اللہ سے روایت ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتوں کے حق مہر میں غلو نہ کرو، اگر یہ کام (بہت زیادہ حق مہر مقرر کرنا) دنیا میں عزت کا باعث ہوتا، یا اللہ کے ہاں تقویٰ (اور نیکی کا شمار) ہوتا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ حق رکھتے تھے کہ ایسا کرتے۔ بارہ اوقیہ سے زیادہ نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کو حق مہر دیا اور نہ آپ کی کسی بیٹی کو ملا۔ آدمی اپنی بیوی کے لیے بہت زیادہ حق مہر مقرر کر لیتا ہے، بعد میں یہ اس کے دل میں بیوی سے نفرت کا باعث بن جاتا ہے اور وہ کہتا ہے: میں نے تیرے لیے مشکیزے کی رسی اٹھائی یا مشک کا پسینہ برداشت کیا۔“ ابوالعجفاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں مولد عربی تھا، (اس لیے اس محاورے کو سمجھ نہیں سکا۔) معلوم نہیں «عَلَقُ الْقِرْبَةِ» (مشک کی رسی) یا «عَرَقُ الْقِرْبَةِ» (مشک کا پسینہ)، اس کا کیا مطلب ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 29 (2106)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، سنن النسائی/النکاح 66 (3349)، (تحفة الأشراف: 10655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/41، 48) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اصلاً عرب کا رہنے والا نہ تھا بلکہ دوسرے ملک سے آ کر عرب میں پیدا ہوا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1888
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک شخص نے (مہر میں) دو جوتیوں کے بدلے شادی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح جائز رکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1888]
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے جوتوں کا جوڑا حق مہر مقرر کر کے نکاح کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کے نکاح کو صحیح قرار دے دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 21 (1113)، (تحفة الأشراف: 5036)، وقد أخرجہ: (3/445، 446) (ضعیف)» (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
إسناده ضعيف
ترمذي (1113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
حدیث نمبر: 1889
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ يَتَزَوَّجُهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَقَالَ: لَيْسَ مَعِي، قَالَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے کون نکاح کرے گا“؟ ایک شخص نے کہا: میں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“، وہ بولا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1889]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کون نکاح کرے گا؟“ ایک آدمی نے کہا: ”میں“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اسے (حق مہر) دو، خواہ لوہے کی انگوٹھی ہو۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس (لوہے کی انگوٹھی بھی) نہیں ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے جو قرآن یاد ہے میں نے اس کے عوض اس کا نکاح تجھ سے کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوکالة 9 (2310)، فضائل القرآن 21 (5029)، 22 (530)، النکاح 14 (5087)، 32 (5121)، 35 (5126)، 37 (5132)، 40 (5135)، 44 (5141)، 50 (5149)، 51 (5150)، اللباس 49 (7117)، (تحفة الأشراف: 4684)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 13 (1425)، سنن ابی داود/النکاح 31 (2111)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، سنن النسائی/النکاح 1 (3202)، موطا امام مالک/النکاح 3 (8)، مسند احمد (5/336)، سنن الدارمی/النکاح 19 (2247) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر میں مال کی کوئی تحدید نہیں، خواہ کم ہو یا زیادہ، اسی طرح محنت مزدوری یا تعلیم قرآن پر بھی نکاح درست ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض نے دس درہم کی تحدید کی ہے، ان کے نزدیک اس سے کم میں مہر درست نہیں، لیکن ان کے دلائل اس قابل نہیں کہ ان صحیح احادیث کا معارضہ کر سکیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1890
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، حَدَّثَنَا الْأَغَرُّ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَزَوَّجَ عَائِشَةَ عَلَى مَتَاعِ بَيْتٍ قِيمَتُهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے گھر میں موجود سامان پر نکاح کیا جس کی قیمت پچاس درہم تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1890]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کا کچھ سامان حق مہر مقرر کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ اس سامان کی قیمت پچاس درہم تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4191، ومصباح الزجاجة: 674) (ضعیف)» (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأغر الرقاشي:مجهول (تقريب: 545) وشيخه عطية العوفي ضعيف مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
إسناده ضعيف
الأغر الرقاشي:مجهول (تقريب: 545) وشيخه عطية العوفي ضعيف مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447