🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ: أَيْنَ تَعْتَدُّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: شوہر کی وفات کے بعد بیوہ عدت کے دن کہاں گزارے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2031
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُخْتَهُ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ ، قَالَتْ: خَرَجَ زَوْجِي فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ، فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ فَقَتَلُوهُ، فَجَاءَ نَعْيُ زَوْجِي وَأَنَا فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ شَاسِعَةٍ، عَنْ دَارِ أَهْلِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَاءَ نَعْيُ زَوْجِي، وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ عَنْ دَارِ أَهْلِي وَدَارِ إِخْوَتِي وَلَمْ يَدَعْ مَالًا يُنْفِقُ عَلَيَّ، وَلَا مَالًا وَرِثْتُهُ وَلَا دَارًا يَمْلِكُهَا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْذَنَ لِي، فَأَلْحَقَ بِدَارِ أَهْلِي وَدَارِ إِخْوَتِي، فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيَّ وَأَجْمَعُ لِي فِي بَعْضِ أَمْرِي، قَالَ:" فَافْعَلِي إِنْ شِئْتِ"، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ قَرِيرَةً عَيْنِي، لِمَا قَضَى اللَّهُ لِي عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ فِي بَعْضِ الْحُجْرَةِ دَعَانِي، فَقَالَ:" كَيْفَ زَعَمْتِ؟"، قَالَتْ: فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي جَاءَ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ، حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ"، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے شوہر اپنے کچھ غلاموں کی تلاش میں نکلے اور ان کو قدوم کے کنارے پا لیا، ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا، میرے شوہر کے انتقال کی خبر آئی تو اس وقت میں انصار کے ایک گھر میں تھی، جو میرے کنبہ والوں کے گھر سے دور تھا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے شوہر کی موت کی خبر آئی ہے اور میں اپنے کنبہ والوں اور بھائیوں کے گھروں سے دور ایک گھر میں ہوں، اور میرے شوہر نے کوئی مال نہیں چھوڑا جسے میں خرچ کروں یا میں اس کی وارث ہوں، اور نہ اپنا ذاتی کوئی گھر چھوڑا جس کے وہ مالک ہوتے، اب اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے خاندان کے گھر اور بھائیوں کے گھر میں آ جاؤں؟ یہ مجھے زیادہ پسند ہے، اس میں میرے بعض کام زیادہ چل جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتی ہو تو ایسا کر لو۔ فریعہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں یہ سن کر ٹھنڈی آنکھوں کے ساتھ خوش خوش نکلی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پہ مجھے حکم دیا تھا، یہاں تک کہ میں ابھی مسجد میں یا حجرہ ہی میں تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: کیا کہتی ہو؟ میں نے سارا قصہ پھر بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی گھر میں جہاں تمہارے شوہر کے انتقال کی خبر آئی ہے ٹھہری رہو یہاں تک کہ کتاب (قرآن) میں لکھی ہوئی عدت (چار ماہ دس دن) پوری ہو جائے، فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت کے گزارے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2031]
حضرت زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہا، جو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا: میرے شوہر اپنے کچھ (بھاگے ہوئے) غلاموں کی تلاش میں نکلے۔ (آخر) قدوم جگہ کے قریب انہیں جا لیا۔ غلاموں نے انہیں شہید کر دیا۔ جب مجھے میرے خاوند کی وفات کی خبر ملی تو میں اپنے خاندان کے محلے سے دور انصار کے ایک مکان میں رہائش پذیر تھی۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے خاوند کی وفات کی خبر اس حال میں ملی ہے کہ میں ایک ایسے مکان میں رہ رہی ہوں جو میرے خاندان کے محلے سے بھی دور ہے اور میرے بھائیوں کے گھروں سے بھی دور ہے۔ اور اس نے کوئی مال بھی نہیں چھوڑا جس سے میرا خرچ چلتا رہے، نہ کوئی مال چھوڑا ہے جو مجھے ترکے میں ملے، نہ ان کی ملکیت میں کوئی گھر تھا۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اجازت دے دیں کہ میں اپنے اقارب اور اپنے بھائیوں کے گھر چلی جاؤں۔ مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے اور اس سے میرے (روز مرہ کے) کام بہتر طور پر چلتے رہیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یوں ہی کر لو۔ وہ فرماتی ہیں: میں باہر نکلی تو مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میرے حق میں فیصلہ فرمایا۔ میں ابھی مسجد ہی میں تھی یا گھر کے صحن ہی میں تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (دوبارہ) طلب فرما لیا، پھر فرمایا: تم نے کیسے بیان کیا؟ میں نے دوبارہ صورت حال پیش کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک اللہ کی مقرر کردہ مدت (موت کی عدت) پوری نہیں ہو جاتی، اسی گھر میں رہائش رکھو جہاں تمہیں اپنے خاوند کی وفات کی خبر پہنچی۔ چنانچہ میں نے چار ماہ دس دن تک وہیں عدت گزاری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2031]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطلاق 44 (2300)، سنن الترمذی/الطلاق 23 (1204)، سنن النسائی/الطلاق60 (3558)، (تحفة الأشراف: 18045)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 31 (87)، مسند احمد (6/370، 421) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں