سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: كَمْ يُطْعِمُ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ
باب: قسم کے کفارہ میں کتنا کھانا دے؟
حدیث نمبر: 2112
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَفَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ النَّاسَ بِذَلِكَ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور کفارہ میں دی، میں لوگوں کو اسی کا حکم دیتا ہوں، تو جس کسی کے پاس ایک صاع کھجور نہ ہو تو آدھا صاع گیہوں دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2112]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارے کے طور پر ایک صاع (خشک) کھجوریں دیں اور لوگوں کو بھی یہی حکم دیا۔ جس کے پاس (کھجوریں) نہ ہوں، وہ نصف صاع گندم دے دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5636، ومصباح الزجاجة: 742) (ضعیف)» (سند میں عمر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: صاع: تقریبا ڈھائی کلو کا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن عبد اللّٰه بن يعلي: ضعيف
والحديث ضعفه ابن كثير في تفسيره (93/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
إسناده ضعيف
عمر بن عبد اللّٰه بن يعلي: ضعيف
والحديث ضعفه ابن كثير في تفسيره (93/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454