🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ
باب: یوں کہنا منع ہے ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2117
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص قسم کھائے تو «ما شاء الله وشئت» ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“ نہ کہے، بلکہ یوں کہے: «ما شاء الله ثم شئت» ”جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2117]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی قسم کھائے تو یوں نہ کہے: «مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ» ”جو اللہ اور تو چاہے“ بلکہ یوں کہے: «مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ» ”جو اللہ چاہے، اس کے بعد جو تو چاہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6552، ومصباح الزجاجة: 746)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/214، 224، 283، 347) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ اس میں مخاطب کو اللہ کے ساتھ کر دیا ہے جس سے شرک کی بو آتی ہے، اگرچہ مومن کی نیت شرک کی نہیں ہوتی پھر بھی ایسی بات کہنی جس میں شرک کا وہم ہو منع ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2118
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ: فَقَالَ: نِعْمَ، الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ، تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُهَا لَكُمْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ".
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا: تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس بات کو جانتا ہوں (کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے)۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» ”جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں“ کہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے خواب میں دیکھا کہ اہل کتاب کے ایک آدمی (کسی یہودی یا عیسائی) سے اس کی ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا: ”تم (مسلمان) اچھے لوگ ہو، اگر شرک نہ کرو۔ تم کہتے ہو: «مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ» ”جو اللہ اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہیں۔““ اس آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اللہ کی! میں بھی تمہاری یہ بات محسوس کر رہا تھا۔ تم یوں کہا کرو: «مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ» ”جو اللہ چاہے، پھر جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تجفة الأشراف: 3318، ومصباح الزجاجة: 747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3935) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ کے بعد محمد کو رکھو تو حرج نہیں اس لئے کہ اللہ کے برابر کوئی نہیں، سب اس کے بندے اور غلام ہیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت ایسا کہنے سے منع فرمایا تو اب کسی ولی، پیر و مرشد اور فقیر و درویش کی کیا بساط ہے کہ وہ کسی کام کے کرنے یا ہونے یا نہ ہونے میں اللہ کے نام کے ساتھ شریک ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
عبدالملك بن عمير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 455

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2118M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
اس سند سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاتی بھائی طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4992، ومصباح الزجاجة: 748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/72، 398)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح