🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ: مَا لاَ يَحِلُّ بَيْعُهُ
باب: حرام اور ناجائز چیزوں کی خرید و فروخت حلال نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2167
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ"، فَقِيلَ لَهُ: عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، قَالَ:" لَا هُنَّ حَرَامٌ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ، فَأَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ".
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال جب کہ آپ مکہ میں تھے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے، اس وقت آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں ہمیں بتائیے اس کا کیا حکم ہے؟ اس سے کشتیوں اور کھالوں کو چکنا کیا جاتا ہے، اور اس سے لوگ چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں (یہ بھی جائز نہیں) یہ سب چیزیں حرام ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے (حیلہ یہ کیا کہ) پگھلا کر اس کی شکل بدل دی، پھر اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2167]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مکہ میں فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی فروخت حرام کر دی ہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مردہ (جانوروں) کی چربی کے بارے میں فرمائیے، اس سے کشتیوں کو چکنا کیا جاتا ہے، چمڑوں کو لگایا جاتا ہے (اور اس طرح انہیں قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔) اور لوگ (اسے چراغوں میں جلا کر) اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قَاتَلَ اللّٰهُ الْيَهُودَ» اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے! اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ ڈالا، اور اس کی قیمت کھا گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 112 (2236)، المغازي 51 (4296)، سورة الأنعام 6 (4633)، صحیح مسلم/المساقاة 13 (1581)، سنن ابی داود/البیوع 66 (3486، 3487)، سنن الترمذی/البیوع 61 (1297)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 7 (4261)، البیوع 91 (4673)، (تحفة الأشراف: 2494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/334، 370) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ظاہر میں انہوں نے شرعی حیلہ کیا کہ چربی نہیں کھائی، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ دلوں کی بات کو جانتا ہے، اور اس کے سامنے کوئی حیلہ نہیں چل سکتا، بلکہ کیا عجب ہے کہ حیلہ کرنے والے کو اصل گناہ کرنے والے سے زیادہ عذاب ہو، کیونکہ اصل گناہ کرنے والا نادم اور شرمسار ہوتا ہے، اور اپنے گناہ پر اپنے آپ کو قصوروار سمجھتا ہے، لیکن شرعی حیلے کرنے والے تو خوب غراتے اور گردن کی رگیں پھلاتے ہیں، اور بحث کرنے پر مستعد ہوتے ہیں کہ ہم نے کوئی گناہ کی بات نہیں کی، دوسری حدیث میں ہے کہ شراب کی وجہ سے اللہ تعالی نے دس آدمیوں پر لعنت کی، نچوڑنے والے، نچڑوانے والے پر، پینے والے اور اٹھانے والے پر، جس کے لئے اٹھایا جائے، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، خریدنے والے پر، جس کے لئے خریدا اس پر، بڑے افسوس کی بات ہے کہ اکثر مسلم ممالک میں اعلانیہ شراب اور سور کے گوشت کی خریدوفروخت ہوتی ہے، اور اس سے بڑھ کر افسوس اس پر ہے کہ مسلمان خود شراب پیتے اور دوسروں کو پلاتے ہیں، اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں شرماتے، اور یہ نہیں جانتے کہ شراب کا پلانے والا بھی ملعون ہے، جیسے پینے والا، اور شراب کا خریدنے والا بھی ملعون ہے، اور جس دستر خوان یا میز پر شراب پی جائے وہاں پر کھانا حرام ہے گو خود نہ پئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2168
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُغَنِّيَاتِ، وَعَنْ شِرَائِهِنَّ، وَعَنْ كَسْبِهِنَّ، وَعَنْ أَكْلِ أَثْمَانِهِنَّ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغنیہ (گانے والی عورتوں) کی خرید و فروخت، ان کی کمائی اور ان کی قیمت کھانے سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2168]
حضرت ابو امامہ اسعد بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گانے والی لونڈیاں بیچنے اور خریدنے سے، ان کی کمائی سے اور ان کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 15 (1282)، (تحفة الأشراف: 4898) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو المہلب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2922)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه علل منھا ضعف عبيد اللّٰه (بن زحر) الإفريقي (ضعيف / د 3293) وھو رواه عن علي بن يزيد ضعيف عند الترمذي (1282)
وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني (212/8 ح 7749) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں