سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: التَّوَقِّي فِي الْكَيْلِ وَالْوَزْنِ
باب: ناپ تول میں احتیاط برتنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ ابنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ والے ناپ تول میں سب سے برے تھے، اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويل للمطففين» ”خرابی ہے کم تولنے والوں کے لیے الخ“ اتاری اس کے بعد وہ ٹھیک ٹھیک ناپنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2223]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو (مدینے کے) لوگوں کا ماپ انتہائی برا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ [سورة المطففين: 1] ”ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔“ تو انہوں نے اچھے طریقے سے ماپنا شروع کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6275، ومصباح الزجاجة: 780) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن