سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ: الأَسْوَاقِ وَدُخُولِهَا
باب: بازار اور اس میں جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، وَعَلِيٌّ ابنا الحسن بن أبي الحسن البراد، أن الزبير بن المنذر بن أبي أسيد الساعدي حدثهما، أن أباه المنذر حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى سُوقِ النَّبِيطِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ"، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى سُوقٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ"، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا السُّوقِ، فَطَافَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا سُوقُكُمْ فَلَا يُنْتَقَصَنَّ وَلَا يُضْرَبَنَّ عَلَيْهِ خَرَاجٌ".
ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبیط کے بازار تشریف لے گئے، اس کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: ”یہ بازار تمہارے لیے نہیں ہے پھر ایک دوسرے بازار میں تشریف لے گئے، اور اس کو دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بازار بھی تمہارے لیے نہیں ہے، پھر اس بازار میں پلٹے اور اس میں ادھر ادھر پھرے، پھر فرمایا: ”یہ تمہارا بازار ہے، اس میں نہ مال کم دیا جائے گا اور نہ اس میں کوئی محصول (ٹیکس) عائد کیا جائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2233]
حضرت ابو اسید (مالک بن ربیعہ ساعدی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سُوقُ النَّبِيْطِ» میں تشریف لے گئے، اسے دیکھا اور فرمایا: ”یہ تمہارا بازار نہیں۔“ پھر اس بازار میں تشریف لائے اور اس میں گھومے پھرے، پھر فرمایا: ”یہ تمہارا بازار ہے۔ اسے کم نہ کیا جائے اور اس پر ٹیکس (خراج) نہ لگایا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11199، ومصباح الزجاجة: 786) (ضعیف)» (سند میں اسحاق بن ابراہیم، محمد و علی اور زبیر بن منذر سب ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزبير بن المنذر بن أبي أسيد: مستور،وإسحاق بن إبراهيم بن سعيد: لين الحديث (تقريب: 2004،326)
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
إسناده ضعيف
الزبير بن المنذر بن أبي أسيد: مستور،وإسحاق بن إبراهيم بن سعيد: لين الحديث (تقريب: 2004،326)
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَوْنٌ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَايَةِ الْإِيمَانِ، وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ غَدَا بِرَايَةِ إِبْلِيسَ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو صبح سویرے نماز فجر کے لیے گیا، وہ ایمان کا جھنڈا لے کر گیا، اور جو صبح سویرے بازار گیا وہ ابلیس کا جھنڈا لے کر گیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2234]
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جو شخص صبح کے وقت فجر کی نماز کے لیے جاتا ہے، وہ ایمان کا جھنڈا لے کر جاتا ہے اور جو شخص صبح صبح بازار جاتا ہے، وہ ابلیس کا جھنڈا لے کر جاتا ہے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4504، ومصباح الزجاجة: 787) (ضعیف جدا)» (سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث اورمتروک راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبيس بن ميمون: ضعيف متروك كما قال الهيثمي(مجمع الزوائد 77/4) وقال البوصيري: ’’ھو متفق علي تضعيفه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
إسناده ضعيف جدًا
عبيس بن ميمون: ضعيف متروك كما قال الهيثمي(مجمع الزوائد 77/4) وقال البوصيري: ’’ھو متفق علي تضعيفه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
حدیث نمبر: 2235
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ: حِينَ يَدْخُلُ السُّوقَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ كُلُّهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت دعا یہ پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير كله وهو على كل شيء قدير» ”اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے حکمرانی ہے، اور اسی کے لیے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے، وہی زندگی، اور موت دیتا ہے، اور وہ زندہ ہے، اس کے لیے موت نہیں، اسی کے ہاتھ میں سارا خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دے گا، اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کرے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2235]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ كُلُّهُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور وہ زندہ رہنے والا ہے جسے موت نہیں، اسی کے ہاتھ میں تمام کی تمام بھلائی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ (ایک ملین) نیکیاں لکھتا ہے، اور دس لاکھ گناہ معاف فرماتا ہے، اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرماتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 36 (3429)، (تحفة الأشراف: 6787، 10528)، وقد أخرجہ: (1/47)، سنن الدارمی/الاستئذان 57 (2734) (حسن)» (سند میں عمرو بن دینار ضعیف راوی ہیں لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)»
وضاحت: ۱؎: بازار میں اس دعا کا ثواب اس واسطے زیادہ ہوا کہ بازار دنیا میں مشغول ہونے اور اللہ سے غفلت کی جگہ ہے تو اس جگہ اللہ کو یاد رکھنا بڑے جواں مردوں کا کام ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: «رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ» (سورہ النور: 37) دوسری روایت میں ہے کہ شیطان بازار میں اپنی کرسی بچھاتا ہے اور لوگوں کو بھڑکاتا ہے، تو وہاں اللہ کی یاد گویا شیطان کو ذلیل کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3429)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
إسناده ضعيف
ترمذي (3429)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458