سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ: اقْتِضَاءِ الذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ وَالْوَرِقِ مِنَ الذَّهَبِ
باب: چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2262
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَوْ سِمَاكٌ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا سِمَاكًا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ فَكُنْتُ آخُذُ الذَّهَبَ مِنَ الْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ مِنَ الذَّهَبِ، وَالدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَخَذْتَ أَحَدَهُمَا وَأَعْطَيْتَ الْآخَرَ، فَلَا تُفَارِقْ صَاحِبَكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں چاندی (جو قیمت میں ٹھہرتی) کے بدلے سونا لے لیتا، اور سونا (جو قیمت میں ٹھہرتا) کے بدلے چاندی لے لیتا، اور دینار درہم کے بدلے، اور درہم دینار کے بدلے لے لیتا تھا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم دونوں میں سے ایک لے لو اور دوسرا دیدے تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک کہ حساب صاف نہ ہو جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2262]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں اونٹ بیچا کرتا تھا۔ میں چاندی کے بدلے میں سونا، سونے کے بدلے میں چاندی، درہموں کے بدلے میں دینار اور دیناروں کے بدلے میں درہم لے لیا کرتا تھا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایک چیز لے اور دوسری دے تو اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک معاملہ صاف نہ ہو جائے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 14 (3354، 3355)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1242)، سنن النسائی/البیوع 48 (4586)، (تحفة الأشراف: 7053)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/33، 59، 89، 101، 139، 154)، سنن الدارمی/البیوع 43 (2623) (ضعیف)» (سماک بن حرب کے حفظ میں آخری عمر میں تبدیلی واقع ہو گئی تھی، اور کبھی رایوں کی تلقین قبول کر لیتے تھے اس لئے ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 132)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2262M
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2262M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف