🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ: الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ
باب: حدود میں سفارش کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ:" قَدْ أَعَاذَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَسْرِقَ وَكُلُّ مُسْلِمٍ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، قریش کافی فکرمند ہوئے اور کہا: اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو“؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اپنی اس روش کی بناء پر ہلاک ہوئے کہ جب کوئی اعلیٰ خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور حال شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا (بھی) ہاتھ کاٹ دیتا“۔ محمد بن رمح (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد کو کہتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چوری کرنے سے محفوظ رکھا اور ہر مسلمان کو ایسا ہی کہنا چاہیئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2547]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قریش بنو مخزوم کی اس خاتون کے معاملے میں بہت فکر مند ہوئے جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: ”اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون عرض کر سکتا ہے؟“ (آخر) انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کون یہ جرأت کر سکتا ہے؟“ چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اللہ کی ایک حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور خطبہ ارشاد فرمایا، (خطبے میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے تباہ ہوئے کہ ان میں جب کوئی معزز (امیر) آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور (غریب) آدمی چوری کرتا تو اسے حد لگا دیتے۔ قسم ہے اللہ کی! اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔““ راویِ حدیث محمد بن رمح نے کہا: ”میں نے امام لیث بن سعد رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا، وہ بیان کر رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے انہیں (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو) چوری (جیسی نازیبا حرکت) سے محفوظ فرمایا تھا۔“ اور ہر مسلمان کو یہی کہنا چاہیے (کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس قسم کی غلطی کا صدور ممکن نہیں لیکن قانون اعلیٰ اور ادنیٰ سب کے لیے برابر ہے۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الشبہات 8 (2648)، الأنبیاء 54 (3475)، فضائل الصحابة 18 (3732)، المغازي 52 (4304)، الحدود 11 (6787)، 12 (6788)، 14 (6800)، صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، سنن ابی داود/الحدود 4 (4373)، سنن الترمذی/الحدود 6 (1430)، سنن النسائی/قطع السارق 5 (4903)، (تحفة الأشراف: 16578)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/162)، سنن الدارمی/الحدود 5 2348) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2548
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهَا ، قَالَ: لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ تِلْكَ الْقَطِيفَةَ مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمْنَا ذَلِكَ وَكَانَتِ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَجِئْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُكَلِّمُهُ وَقُلْنَا نَحْنُ نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا"، فَلَمَّا سَمِعْنَا لِينَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَيْنَا أُسَامَةَ فَقُلْنَا كَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" مَا إِكْثَارُكُمْ عَلَيَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَعَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ نَزَلَتْ بِالَّذِي نَزَلَتْ بِهِ، لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا".
مسعود بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اس عورت (فاطمہ بنت اسود) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے چادر چرائی تو ہمیں اس کی بڑی فکر ہوئی، وہ قریشی عورت تھی، چنانچہ ہم گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا: ہم اس کے فدیہ میں چالیس اوقیہ ادا کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کا پاک کر دیا جانا اس کے حق میں بہتر ہے“، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم گفتگو سنی تو (امیدیں لگائے) اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کے سلسلے میں) گفتگو کرو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا (کہ اسامہ سفارش کر رہے ہیں) تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: ”کیا بات ہے تم باربار مجھ سے اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ جو اللہ کی ایک باندی پر ثابت ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر یہ چیز اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ پیش آتی، جو اس کے ساتھ پیش آئی ہے تو محمد اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2548]
حضرت مسعود ابن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے کمبل چرا لیا تو ہم اس معاملے میں بہت فکرمند ہوئے۔ وہ قریش کی ایک عورت تھی۔ ہم بات کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے کہا: ”ہم اس کے جرمانے کے طور پر چالیس اوقیے (چاندی) دے دیں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے یہی بہتر ہے کہ اسے (سزا دے کر گناہ سے) پاک کر دیا جائے۔“ ہم نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم گفتگو سنی تو ہم حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو خطبہ دینے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”تم اللہ کی ایک حد (کے نفاذ کو روکنے) کے لیے اصرار کیوں کر رہے ہو جو اللہ کی ایک بندی پر آ پڑی ہے؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی بھی وہ غلطی کرتی جو اس عورت نے کی ہے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11263، ومصباح الزجاجة: 904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/409) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (محمد بن اسحاق مدلس ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے نیز ملاحظہ ہو: الضعیفة: 4425)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
والحديث السابق (الأصل: 2547) شاهد لبعضه ولعله من أجله حسنه الحافظ في الإصابة (409/3) !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 471

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں