🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ إِذَا لَمْ يَجِدْ كَفَنًا إِلاَّ مَا يُوَارِي رَأْسَهُ أَوْ قَدَمَيْهِ غَطَّى رَأْسَهُ:
باب: جب کفن کا کپڑا چھوٹا ہو کہ سر اور پاؤں دونوں نہ ڈھک سکیں تو سر چھپا دیں (اور پاؤں پر گھاس وغیرہ ڈال دیں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1276
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَلْتَمِسُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ مَا نُكَفِّنُهُ إِلَّا بُرْدَةً إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ , فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْنُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَأَنْ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شقیق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف اللہ کے لیے ہجرت کی۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر ملنا ہی تھا۔ ہمارے بعض ساتھی تو انتقال کر گئے اور (اس دنیا میں) انہوں نے اپنے کئے کا کوئی پھل نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے اور ہمارے بعض ساتھیوں کا میوہ پک گیا اور وہ چن چن کر کھاتا ہے۔ (مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ) احد کی لڑائی میں شہید ہوئے ہم کو ان کے کفن میں ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملی اور وہ بھی ایسی کہ اگر اس سے سر چھپاتے ہیں تو پاؤں کھل جاتا ہے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ آخر یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سر کو چھپا دیں اور پاؤں پر سبز گھاس اذخر نامی ڈال دیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1276]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی، ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا جوئی تھا اور ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے تھا۔ ہم میں سے بعض حضرات فوت ہوئے تو انہوں نے دنیا میں اپنے اجر کا کچھ حصہ بھی نہیں کھایا، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی ایسے لوگوں میں سے تھے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا پھل پک چکا ہے اور وہ اسے چن چن کر کھا رہے ہیں۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگِ احد میں شہید ہوئے تو ہمیں (ان کے ترکے میں) کفن کے لیے ایک چھوٹی سی چادر کے علاوہ کچھ نہ ملا، جب ہم ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر ظاہر ہو جاتا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے قدموں پر «الإِذْخِرُ» اذخر نامی گھاس ڈال دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں