سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: مَا لاَ قَوَدَ فِيهِ
باب: جن چیزوں میں قصاص نہیں بلکہ دیت ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ ، حَدَّثَنِي نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرَبَ رَجُلًا عَلَى سَاعِدِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا مِنْ غَيْرِ مَفْصِلٍ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِالدِّيَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْقِصَاصَ، قَالَ:" خُذْ الدِّيَةَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا" وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ.
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کی کلائی پر تلوار ماری جس سے وہ کٹ گئی، لیکن جوڑ پر سے نہیں، پھر زخمی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دیت (خون بہا) دینے کا حکم فرمایا، وہ بولا: اللہ کے رسول! میں قصاص لینا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لو، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت دے، اور اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا ”۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2636]
نمران بن جاریہ رحمہ اللہ اپنے والد (جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے کی کلائی پر تلوار مار کر جوڑ کے علاوہ دوسری جگہ سے بازو کاٹ دیا۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیت دلوانے کا حکم دے دیا۔ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تو قصاص لینا چاہتا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لے، اللہ تجھے برکت عطا فرمائے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3180، ومصباح الزجاجة: 930) (ضعیف)» (سند میں دھثم بن قرّان الیمامی متروک ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإ رواء: 2235)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
دهثم: ضعيف جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
إسناده ضعيف جدًا
دهثم: ضعيف جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ صُهْبَانَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا قَوَدَ فِي الْمَأْمُومَةِ وَلَا الْجَائِفَةِ وَلَا الْمُنَقِّلَةِ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زخم دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے، یا ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جائے، تو اس میں قصاص نہ ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2637]
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دماغ کی جھلی تک پہنچ جانے والے زخم کا قصاص نہیں، نہ جسم کے اندرونی خلا (مثلاً پیٹ) تک پہنچ جانے والے زخم میں اور نہ ہڈی کو اپنی جگہ سے ہٹا دینے والی چوٹ میں قصاص ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5139، ومصباح الزجاجة: 931) (حسن)» (تراجع الألبانی: رقم: (390)
وضاحت: ۱؎: جن زخموں کی دیت میں برابری ہو سکے ان میں قصاص کا حکم دیا جائے گا، مثلاً کوئی عضو جوڑ سے کاٹ ڈالے تو کاٹنے والے کا بھی وہی عضو جوڑ پر سے کاٹا جائے گا، اور جن زخموں میں برابری نہ ہو سکے تو ان میں قصاص کا حکم نہ ہو گا بلکہ دیت دلائی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رشدين بن سعد: ضعيف
وللحديث شاهد ضعيف وأخرج البيهقي (65/8) بإسناد حسن عن طلحة رضي اللّٰه عنه أن النبي ﷺ قال: ((ليس في المأمومة قود))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
إسناده ضعيف
رشدين بن سعد: ضعيف
وللحديث شاهد ضعيف وأخرج البيهقي (65/8) بإسناد حسن عن طلحة رضي اللّٰه عنه أن النبي ﷺ قال: ((ليس في المأمومة قود))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473