🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ: الْقِصَاصِ فِي السِّنِّ
باب: دانت میں قصاص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2649
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَسَرَتْ الرُّبَيِّعُ عَمَّةُ أَنَسٍ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا الْعَفْوَ، فَأَبَوْا فَعَرَضُوا عَلَيْهِمُ الْأَرْشَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ"، قَالَ: فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّةُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کے سامنے کا دانت توڑ ڈالا، تو ربیع کے لوگوں نے معافی مانگی، لیکن لڑکی کی جانب کے لوگ معافی پر راضی نہیں ہوئے، پھر انہوں نے دیت کی پیش کش کی، تو انہوں نے دیت لینے سے بھی انکار کر دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا، تو انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ایسا نہیں ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے، پھر لوگ معافی پر راضی ہو گئے، اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2649]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی حضرت ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا۔ انہوں (ربیع کے گھر والوں) نے معاف کر دینے کی درخواست کی، لیکن انہوں نے (فریقِ ثانی نے معاف کرنے سے) انکار کر دیا۔ وہ لوگ (فریقین) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا (میری بہن) ربیع رضی اللہ عنہا کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچا دین دے کر بھیجا ہے! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انس! اللہ کا قانون تو قصاص ہی ہے۔ (راوی نے کہا:) پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف کر دیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا کوئی بندہ ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشرف: 646، 760)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلح 8 (2703)، تفسیر البقرة 23 (4499)، المائدة 6 (4611)، الدیات 19 (6894)، صحیح مسلم/القسامة 5 (1675)، سنن ابی داود/الدیات 32 (4595)، سنن النسائی/القسامة 12 (4759)، مسند احمد (3/128، 167، 284) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ ربیع بنت نضر کے سگے بھائی اور انس بن مالک کے چچا ہیں رضی اللہ عنہم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں