🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ: مَنْ أَمِنَ رَجُلاً عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ
باب: کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ ، قَالَ: لَوْلَا كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
حضرت رفاعہ بن شداد قتبانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اگر میں نے حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو مختار ثقفی کے سر اور دھڑ کے درمیان چلتا (اس کا سر دھڑ سے الگ کر دیتا)، میں نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے کوئی اپنا خون محفوظ سمجھتا ہو اور وہ اسے قتل کر ڈالے تو قیامت کے دن وہ (قاتل) عہد شکنی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10730، ومصباح الزجاجة: 951)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/223، 224، 436، 437) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2689
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى ، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ ، عَنْ رِفَاعَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فِي قَصْرِهِ، فَقَالَ: قَامَ جِبْرَائِيلُ مِنْ عِنْدِيَ السَّاعَةَ فَمَا مَنَعَنِي مِنْ ضَرْبِ عُنُقِهِ إِلَّا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا أَمِنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلَا تَقْتُلْهُ" فَذَاكَ الَّذِي مَنَعَنِي مِنْهُ.
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ۱؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2689]
حضرت رفاعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، اس نے کہا: جبرائیل علیہ السلام ابھی ابھی میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں۔ میں صرف اس لیے اسے قتل نہ کر سکا کہ میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص تجھ سے اپنے خون کے بارے میں مطمئن ہو (اسے یقین ہو کہ اس کے ہاتھ سے میری جان محفوظ ہے) تو اسے قتل نہ کر۔ اسی (فرمان) نے مجھے اس (کو قتل کرنے) سے روک دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث رفاعة تقدم تخریجہ بمثل الحدیث السابق (2688)، وحدیث سلیمان بن صرد، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4570 (الف)، ومصباح الزجاجة: 952)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/394) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابولیلیٰ اور أبوعکاشہ مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2200)
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ رسالت کا دعوی کر رہا تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن ميسرة: ضعيف و قال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 280/8)
و أبو عكاشة الهمداني: مجهول (تقريب: 3652،8260)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں