🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. بَابُ: قِسْمَةِ الْخُمُسِ
باب: (مال غنیمت میں سے) خمس کی تقسیم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2881
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمَانِهِ، فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ لِبَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا: قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَقَرَابَتُنَا وَاحِدَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَرَى بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ شَيْئًا وَاحِدًا".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور خیبر کے خمس مال میں سے جو حصہ آپ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اس کے بارے میں گفتگو کرنے لگے، چنانچہ انہوں نے کہا: آپ نے ہمارے بھائی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو تو دے دیا، جب کہ ہماری اور بنی مطلب کی قرابت بنی ہاشم سے یکساں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو ایک ہی سمجھتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2881]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر خیبر کے خمس میں سے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ملنے والے حصے کے بارے میں بات چیت کرنے لگے، ان دونوں نے کہا: آپ نے ہمارے بھائیوں (یعنی) بنو ہاشم اور بنو مطلب کو حصہ عطا فرمایا (اور ہمیں بنو عبد شمس کو نہیں دیا) حالانکہ ہماری قرابت ایک ہی درجے کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک ہی چیز سمجھتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 17 (3140)، المناقب 2 (3502)، المغازي 39 (4229)، سنن ابی داود/الخراج 20 2978، 2989)، سنن النسائی/قسم الفئی 1 (4141)، (تحفة الأشراف: 3185)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/81، 83، 85) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عبد مناف کے چار بیٹے تھے: ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمس، جبیر نوفل کی اولاد میں سے تھے اور عثمان عبد شمس کی اولاد میں سے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوی القربی کا حصہ ہاشم اور مطلب کو دیا، اس وقت ان دونوں نے اعتراض کیا کہ بنی ہاشم کی فضیلت کا تو ہمیں انکار نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی ہاشم کی اولاد میں سے ہیں، لیکن بنی مطلب کو ہمارے اوپر ترجیح کی کوئی وجہ نہیں، ہماری اور ان کی قرابت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یکساں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچ یہی ہے لیکن بنی مطلب ہمیشہ یہاں تک کہ جاہلیت کے زمانہ میں بھی بنی ہاشم کے ساتھ رہے تو وہ اور بنی ہاشم ایک ہی ہیں، برخلاف بنی امیہ کے یعنی عبدشمس کی اولاد کے کیونکہ امیہ عبد شمس کا بیٹا تھا جس کی اولاد میں عثمان اور معاویہ اور تمام بنی امیہ تھے کہ ان میں اور بنی ہاشم میں کبھی اتفاق نہیں رہا، اور جب قریش نے قسم کھائی تھی کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ میل جول رکھیں گے جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حوالہ نہ کر دیں، اس وقت بھی بنی مطلب اور بنی ہاشم ساتھ ہی رہے، پس اس لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوی القربی کا حصہ دونوں کو دلایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں