🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ: الشَّرْطِ فِي الْحَجِّ
باب: حج میں شرط لگانا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2936
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَدَّتِهِ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَوْ سُعْدَى بِنْتِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ:" مَا يَمْنَعُكِ يَا عَمَّتَاهُ مِنَ الْحَجِّ؟"، فَقَالَتْ: أَنَا امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ، وَأَنَا أَخَافُ الْحَبْسَ، قَالَ:" فَأَحْرِمِي، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ".
ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر اپنی جدّہ (دادی یا نانی) سے روایت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسماء بنت ابی بکر ہیں یا سعدیٰ بنت عوف) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا: پھوپھی جان! حج کرنے میں آپ کے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں پہنچ نہیں سکوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ احرام باندھ لیں اور شرط کر لیں کہ جس جگہ بہ سبب بیماری آگے نہیں جا سکوں گی، وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2936]
حضرت ابوبکر رحمہ اللہ بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی دادی حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا یا اپنی نانی حضرت سعدی بنت عوف رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: پھوپھی جان! آپ کو حج کرنے میں کیا رکاوٹ درپیش ہے؟ انہوں نے کہا: میں بیمار عورت ہوں اور راستے میں رک جانے (اور سفر جاری نہ رکھ سکنے) سے ڈرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احرام باندھ لیجیے اور شرط لگا لیجیے کہ آپ وہیں احرام کھول دیں گی جہاں آپ کو رکاوٹ پیش آجائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15892، ومصباح الزجاجة: 1033)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/349) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابوبکر بن عبد اللہ مستور ہیں، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 4 / 187)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2937
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ضُبَاعَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ:" أَمَا تُرِيدِينَ الْحَجَّ الْعَامَ"، قُلْتُ: إِنِّي لَعَلِيلَةٌ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" حُجِّي وَقُولِي مَحِلِّي، حَيْثُ تَحْبِسُنِي".
ضباعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں اس وقت بیمار تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا امسال آپ کا ارادہ حج کرنے کا نہیں ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کرو اور یوں (نیت میں) کہو: اے اللہ جہاں تو مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2937]
حضرت ضباعہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں بیمار تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس سال تمہارا حج کرنے کا ارادہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بیمار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کرو اور کہہ دو: «اللّٰهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» (اے اللہ) میں وہاں احرام کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15914، ومصباح الزجاجة: 1034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/360) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2938
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، وَعِكْرِمَةَ ، يُحَدِّثَانِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ أُهِلُّ؟، قَالَ:" أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي، أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور (اللہ سے) شرط کر لو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2938]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں بھاری جسم کی (یا بیمار) عورت ہوں اور میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، میں کیسے احرام باندھوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احرام باندھ لو اور شرط لگا لو کہ میں وہیں احرام کھول دوں گی جہاں (اے اللہ) تو مجھے روک لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 15 (1208)، سنن النسائی/الحج 60 (2767)، (تحفة الأشراف: 5754، 6214)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 22 (1776)، سنن الترمذی/الحج 97 (941)، مسند احمد (1/337، 352)، سنن الدارمی/المناسک 15 (1852) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ مرض احصار (رکاوٹ) کا سبب بن سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں