سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ: الْغُدُوِّ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ
باب: (نویں ذی الحجہ کی) صبح سویرے منیٰ سے عرفات جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3008
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ، وَمِنَّا مَنْ يُهِلُّ، فَلَمْ يَعِبْ هَذَا عَلَى هَذَا، وَلَا هَذَا عَلَى هَذَا، وَرُبَّمَا قَالَ: هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3008]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس دن (9 ذوالحجہ کو) منیٰ سے عرفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم میں سے کوئی تکبیرات پکار رہا تھا اور کوئی «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ پکار رہا تھا۔ نہ یہ اس پر تنقید کرتا تھا، نہ وہ اس پر۔“ یا یہ فرمایا: ”نہ یہ ان پر تنقید کرتے تھے، نہ وہ ان پر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 12 (970)، الحج 86 (1659)، صحیح مسلم/الحج 46 (1285) سنن النسائی/الحج 192 (3003)، (تحفة الأشراف: 1452)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 28 (1816)، موطا امام مالک/الحج 13 (43)، مسند احمد (3/110، 240)، سنن الدارمی/المناسک 48 (1919) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه