سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. بَابُ: طَوَافِ الْوَدَاعِ
باب: طواف وداع کا بیان۔
حدیث نمبر: 3070
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ، حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر طرف کو جا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3070]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لوگ (حج کے اعمال سے فارغ ہو کر منیٰ ہی سے) ہر طرف واپسی (اپنے وطن کو) چلے جاتے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کوچ نہ کرے جب تک وہ (روانگی سے پہلے) آخری وقت بیت اللہ کے پاس (طواف میں) نہ گزارے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 67 (1327)، سنن ابی داود/المناسک 84 (2002)، (تحفة الأشراف: 5703)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 144 (1755)، مسند احمد (1/222)، سنن الدارمی/المناسک 85 (1974) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3071
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَنْفِرَ الرَّجُلُ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کوچ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام خانہ کعبہ کا طواف ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3071]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت طوافِ بیت اللہ کیے بغیر (واپس) کوچ کرنے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7109، ومصباح الزجاجة: 1067) (صحیح)» (سند میں ابراہیم بن یزید الخوزی المکی منکر الحدیث راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح