🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

86. بَابُ: فِدْيَةِ الْمُحْصَرِ
باب: محصور کے فدیہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3079
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ كَعْبٌ : فِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُرَى الْجُهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ:" فَالصَّوْمُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ.
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ میں مسجد میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تو میں نے ان سے آیت کریمہ: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» (سورۃ البقرہ: ۱۹۶) کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ جوئیں (میرے سر میں اتنی کثرت سے تھیں کہ) میرے منہ پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اس قدر تکلیف ہو گی، کیا ایک بکری تمہیں مل سکتی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تب یہ آیت اتری: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» یعنی فدیہ ہے صوم کا یا صدقہ کا یا قربانی کا، تو صوم تین دن کا ہے، اور صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا دینا ہے، ہر مسکین کو آدھا صاع، اور قربانی ایک بکری کی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المحصر 5 (1814)، 6 (1815)، 7 (1816)، 8 (1817)، المغازي 35 (4159)، تفسیر البقرة 32 (4517)، المرضیٰ 16 (5665)، الطب 16 (5703)، الکفارات 1 (6808)، صحیح مسلم/الحج 10 (1201)، سنن الترمذی/الحج 107 (953)، (تحفة الأشراف: 11112)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 43 (1856)، سنن النسائی/الحج 96 (2854)، موطا امام مالک/الحج 78 (237)، مسند احمد (4/242، 243) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: محرم جب کوئی غلطی کر بیٹھے تو ان تینوں کفارات میں سے جو ادا کر سکے کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3080
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ آذَانِي الْقَمْلُ:" أَنْ أَحْلِقَ رَأْسِي، وَأَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، وَقَدْ عَلِمَ أَنْ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُكُ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس وقت جوؤں نے مجھے پریشان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا سر منڈوا ڈالوں، اور تین دن روزے رکھوں، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرے پاس قربانی کے لیے کچھ نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11118) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں