🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

102. . بَابُ: أَجْرِ بُيُوتِ مَكَّةَ
باب: مکہ میں مکانات کا کرایہ لینے کا کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَمَا تُدْعَى رِبَاعُ مَكَّةَ إِلَّا السَّوَائِبَ مَنِ احْتَاجَ سَكَنَ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَسْكَنَ".
علقمہ بن نضلہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے انتقال کے وقت تک مکہ کے گھروں کو صرف «سوائب» کہا جاتا تھا ۱؎ جو ضرورت مند ہوتا ان میں رہتا، اور جس کو حاجت نہ ہوتی، وہ دوسروں کو اس میں رہنے کے لیے دے دیتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10018، ومصباح الزجاجة: 1075) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (علقمہ بن نضلہ کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی بے کرایہ والے گھر اور وقف شدہ مکان۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صححه البوصيري علي شرط مسلم (!) وضعفه الدميري وقال: ’’ علقمة بن نضلة لا يصح له صحبة ‘‘ وقوله ھو الصواب،وقال ابن حجر: ’’ تابعي صغير،أخطأ من عده في الصحابة ‘‘ (تقريب:4683)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں