سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ
باب: ماں کو ذبح کرنا اس کے پیٹ کے بچے کو ذبح کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 3199
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ، فَقَالَ: كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین (ماں کے پیٹ کے بچے) کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اگر چاہو تو کھاؤ، کیونکہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہو جاتا ہے“ ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے کوسج اسحاق بن منصور کو لوگوں کے قول «الذكاة لا يقضى بها مذمة» کے سلسلے میں کہتے سنا: «مذمۃ» ذال کے کسرے سے ہو تو «ذمام» سے مشتق ہے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو «ذمّ» سے مشتق ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأضاحي 18 (2827)، سنن الترمذی/الأطعمة 2 (1476)، (تحفة الأشراف: 3986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/31، 39، 53) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جنین جب ماں کے ذبح کئے جانے کے بعد مردہ برآمد ہوا ہو تو ایسے جنین کا کھانا حلال ہے، اسے دوبارہ ذبح کرنے کی ضرورت نہیں یہی مذہب اہل حدیث اور جمہور علماء کا ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسے دوبارہ ذبح کیا جائے گا مگریہ حدیث ان کے مذہب کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2827)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 491
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2827)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 491