سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ
باب: چاندی کے برتن میں پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ , إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3413]
اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں (پانی یا کوئی اور مشروب) پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ ڈال رہا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 28 (5634)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2065)، (تحفة الأشراف: 18182)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ 7 (11)، مسند احمد (6/98، 301، 302، 304، 306)، سنن الدارمی/الأشربة 25 (2175) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّة وَقَالَ:" هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا , وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے، آپ کا ارشاد ہے: ”یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3414]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”وہ دنیا میں ان (کافروں) کے لیے ہیں اور آخرت میں تمہارے لیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس 25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2067)، سنن ابی داود/الأشربة 17 (3723)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1878)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 33 (5303)، (تحفة الأشراف: 3373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 39، 396، 398، 400، 408)، سنن الدارمی/الأشربة 25 (2175، 2176) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3415
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ , فَكَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3415]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ ڈال رہا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17865، ومصباح الزجاجة: 1183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/98) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح