سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ: الْمَرِيضِ يَشْتَهِي الشَّيْءَ
باب: مریض اگر کسی چیز کی خواہش کرے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3440
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا , فَقَالَ لَهُ:" مَا تَشْتَهِي؟" , فَقَالَ: أَشْتَهِي خُبْز بُرٍّ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ , فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ" , ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا فَلْيُطْعِمْهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت فرمائی، اور اس سے پوچھا: ”تمہارا کیا کھانے کا جی چاہتا ہے“؟ تو اس نے جواب دیا کہ گیہوں کی روٹی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اپنے بھائی کے پاس بھیجے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مریض کسی چیز کی خواہش کرے تو وہ اسے کھلائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3440]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی عیادت فرمائی تو اس سے پوچھا: ”تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟“ اس نے کہا: ”گندم کی روٹی کو جی چاہتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس گندم کی روٹی ہو وہ اپنے بھائی کے ہاں بھیج دے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کا مریض کسی چیز کی خواہش ظاہر کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے کھلا دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 1439، (تحفة الأشراف: 6224، ومصباح الزجاجة: 1192) (ضعیف)» (سند میں صفوان بن ھبیرہ لین الحدیث راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1439)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1439)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
حدیث نمبر: 3441
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ , قَالَ:" أَتَشْتَهِي شَيْئًا؟" , قَالَ: أَشْتَهِي كَعْكًا , قَالَ:" نَعَمْ , فَطَلَبُوا لَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اور اس سے پوچھا: ”کیا تمہارا جی کسی چیز کی خواہش رکھتا ہے“؟ جواب دیا: میرا جی کیک (کھانے کو) چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، پھر صحابہ نے اس کے لیے کیک منگوایا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3441]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کی عیادت کے لیے اس کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے؟ کیا تمہارا جی کیک کھانے کو چاہتا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، چنانچہ اس کے لیے کیک منگوایا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1440 (مصباح الزجاجة: 1193) (ضعیف)» (سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1440)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1440)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500