🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. بَابُ: الْكُحْلِ بِالإِثْمِدِ
باب: اثمد کا سرمہ لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3495
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ , فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے اوپر «اثمد» ۲؎ کو لازم کر لو، اس لیے کہ وہ بینائی تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3495]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اثمد سرمہ (آنکھوں میں لگانا) اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ وہ نظر کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6771، ومصباح الزجاجة: 1219) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عثمان بن عبدالملک لین الحدیث ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، جب کہ باب کی احادیث میں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 724)
وضاحت: ۱؎: ثرمد: ایک پتھر ہے جو اصفہان (ایران) میں پایا جاتا ہے۔ اس سے تیار کردہ سرمہ بہترین اور مفید ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3496
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ عِنْدَ النَّوْمِ , فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ، کیونکہ اس سے نظر (نگاہ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3496]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوتے وقت «الْإِثْمِدَ» (اثمد) سرمہ (آنکھوں میں لگانا) ضروری سمجھ لو کیونکہ وہ نظر کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3008، ومصباح الزجاجة: 1220) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند اسماعیل بن مسلم ضعیف راوی ہے، لیکن متابعت کثیرہ کی وجہ سے حدیث صحیح ہے کما تقدم)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن مسلم ضعيف
و للحديث شواھد قوية دون قوله: ’’ عند النوم ‘‘ انظر الحديث الآتي (الأصل: 3497)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3497
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ , يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر سرمہ اثمد کا ہے، وہ نظر (بینائی) تیز کرتا، اور بالوں کو اگاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3497]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بہترین سرمہ «الاِثْمِدُ» (اثمد) ہے، وہ نظر کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الجنائز 18 (994)، الشمائل 51، سنن ابی داود/الطب 14 (3878)، سنن النسائی/الزینة 28 (5116)، (تحفة الأشراف: 5535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 247، 274، 328، 355، 63 3) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں