🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. بَابُ: مَا رُخِّصَ فِيهِ مِنَ الرُّقَى
باب: جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ بُرَيْدَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر بد لگنے یا ڈنک لگنے کے سوا کسی صورت میں دم کرنا درست نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3513]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دم تو صرف نظر سے یا ڈنک مارنے والی چیز (بچھو وغیرہ کے ڈسنے کی وجہ) سے ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 94 (220)، (تحفة الأشراف: 1945) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , أَنَّ خَالِدَةَ بِنْتَ أَنَسٍ أُمَّ بَنِي حَزْمٍ السَّاعِدِيَّةَ: جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ الرُّقَى , فَأَمَرَهَا بِهَا".
ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3514]
حضرت ابوبکر بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدتنا خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ دم سنائے (اور دریافت کیا کہ یہ جائز ہیں یا نہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے ساتھ دم کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15823، ومصباح الزجاجة: 1226) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (محمد بن عمارہ قوی نہیں ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ , آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يَرْقُونَ مِنَ الْحُمَةِ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنِ الرُّقَى , فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى , وَإِنَّا نَرْقِي مِنَ الْحُمَةِ , فَقَالَ لَهُمْ:" اعْرِضُوا عَلَيَّ" , فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ , فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهَذِهِ هَذِهِ مَوَاثِيقُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا آل عمرو بن حزم نامی گھرانہ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک کرنے سے منع فرمایا تھا، چنانچہ ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے روک دیا ہے حالانکہ ہم لوگ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جھاڑ پھونک (منتر) مجھے سناؤ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ تو «اقرارات ہیں» (یعنی ثابت شدہ ہیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3515]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: انصار کا ایک گھرانا، جنہیں آل عمرو بن حزم کہا جاتا تھا، (بچھو وغیرہ کے) ڈنگ کا دم کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع فرما دیا۔ انہوں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے دم جھاڑ سے منع فرما دیا ہے، حالانکہ ہم زہریلے جانور کے ڈنک کا دم کیا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سناؤ۔ انہوں نے دم کے الفاظ سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں کوئی حرج نہیں۔ یہ تو اقرار ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 21 (2199)، (تحفة الأشراف: 2307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302، 315) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3516
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ , وَالْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہریلے ڈنک، نظر بد اور نملہ ۱؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3516]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (زہریلی چیزوں کے) ڈنک کا، نظر کا اور نملہ کا دم کرنے کی اجازت دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 21 (2196)، سنن الترمذی/الطب 15 (2056، 2057)، (تحفة الأشراف: 1709)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 119، 127) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نملہ: ایک بیماری ہے جس کے سبب پسلی میں دانے نکل آتے ہیں، اور زخم پڑ جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں