سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: حَقِّ الضَّيْفِ
باب: مہمان کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 3675
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ , وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ , وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَ صَاحِبِهِ , حَتَّى يُحْرِجَهُ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ , وَمَا أَنْفَقَ عَلَيْهِ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَهُوَ صَدَقَةٌ".
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے، اور یہ واجبی مہمان نوازی ایک دن اور ایک رات کی ہے، مہمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے یہاں اتنا ٹھہرے کہ اسے حرج میں ڈال دے، مہمان داری (ضیافت) تین دن تک ہے اور تین دن کے بعد میزبان جو اس پر خرچ کرے گا وہ صدقہ ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3675]
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور اس کی (واجب) مہمانی ایک دن رات۔ مہمان کے لیے اپنے دوست (میزبان) کے ہاں (اتنا عرصہ) ٹھہرے رہنا جائز نہیں کہ وہ (میزبان) تنگی محسوس کرے۔ مہمان (کی مسنون حد) تین دن تک ہے۔ تین دن کے بعد وہ جو کچھ اس پر خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: (3672) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3676
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ , فَلَا يَقْرُونَا فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ , قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ , فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا , وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا , فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ ہم کو لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں، اور ہم ان کے پاس اترتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے، ایسی صورت میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ان چیزوں کے لینے کا حکم دیں جو مہمان کو درکار ہوتی ہیں، تو انہیں لے لو، اور اگر نہ دیں تو اپنی مہمان نوازی کا حق جو ان کے لیے مناسب ہو ان سے وصول کر لو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3676]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں (سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے) بھیجتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے پاس ہم ٹھہرتے ہیں تو وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے۔ اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب تم کچھ لوگوں کے پاس (ان کی بستی میں) ٹھہرو اور وہ تمہارے لیے وہ کچھ مہیا کریں جو مہمان کے لیے ہونا چاہیے تو (ان سے) قبول کر لو۔ اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان سے مہمان کا وہ حق وصول کرو جو انہیں چاہیے تھا (کہ پیش کرتے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 18 (2461)، الأدب 85 (6137)، صحیح مسلم/اللقطة 3 (1727)، سنن الترمذی/السیر 32 (1589)، سنن ابی داود/الأطعمة 5 (3752)، (تحفة الأشراف: 9954)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/149) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب میزبان مہمان کی مہمانی نہ کرے تو اس کے عوض میں بقدر مہمانی کے میزبان سے نقد وصول کر سکتا ہے، اور یہ واجب مہمانی پہلی رات میں ہے کیونکہ رات میں مسافر کو نہ کھانا مل سکتا ہے نہ بازار معلوم ہوتا ہے، تو صاحب خانہ پر اس کے کھانے پینے کا انتظام کر دینا واجب ہے، بعض علماء کے نزدیک یہ وجوب اب بھی باقی ہے، جمہور کہتے ہیں کہ وجوب منسوخ ہوگیا، لیکن سنت ہونا اب بھی باقی ہے، تو ایک دن رات مہمانی کرنا سنت مؤکدہ ہے، یعنی ضروری ہے اور تین دن مستحب ہے، اور تین دن بعد پھر مہمانی نہیں، اب مہمان کو چاہئے کہ وہاں سے چلا جائے یا اپنے کھانے پینے کا انتظام خود کر ے، اور میزبان پر بوجھ نہ بنے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3677
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ , فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ , فَإِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کے یہاں رات کو کوئی مہمان آئے تو اس رات اس مہمان کی ضیافت کرنی واجب ہے، اور اگر وہ صبح تک میزبان کے مکان پر رہے تو یہ مہمان نوازی میزبان کے اوپر مہمان کا ایک قرض ہے، اب مہمان کی مرضی ہے چاہے اپنا قرض وصول کرے، چاہے چھوڑ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3677]
حضرت ابو کریمہ مقدام (بن معدیکرب) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہمان کی ایک رات (مہمان نوازی) واجب ہے۔ اگر مہمان صبح تک اس کے گھر رہا (اور اس نے مہمانی نہ کی) تو یہ اس (صاحب خانہ) پر قرض ہے۔ مہمان چاہے تو اس کا مطالبہ (کر کے وصول) کر لے، چاہے تو چھوڑ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 5 (3750)، (تحفة الأشراف: 11568) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح