🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ: الرَّجُلِ يُقَالُ لَهُ كَيْفَ أَصْبَحْتَ
باب: آدمی سے کہا جائے: صبح کیسے کی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3710
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِخَيْرٍ , مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُصْبِحْ صَائِمًا , وَلَمْ يَعُدْ سَقِيمًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح کیسے کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نہ آج روزہ رکھا، نہ بیمار کی عیادت (مزاج پرسی) کی خیریت سے ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3710]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیسے صبح کی؟ آپ نے فرمایا: خیریت سے صبح ہوئی، ایسے آدمی کی جس نے نہ روزہ رکھا، نہ کسی بیمار کی عیادت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2380، ومصباح الزجاجة: 1293) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن مسلم ضعیف راوی ہے، لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاہد اور دوسری احادیث کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی 100 و صحیح الأدب المفرد: 878- 1133)
وضاحت: ۱؎: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں اپنی تقصیر ظاہر کی باوجود اس کے کہ میں نے روزہ نہیں رکھا بیمار پرسی نہیں کی، لیکن مالک کا احسان ہے کہ میری صبح خیریت کے ساتھ اس نے کرائی، سبحان اللہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باوجود کثرت عبادت، ریاضت، قرب الٰہی اور گناہوں سے پاک اور صاف ہونے کے اپنی تقصیر کا اقرار اور مالک کی نعمتوں کا اظہار کرتے تھے، اور کسی بندے کی کیا مجال ہے جو اپنی عبادت و طاعت اور تقویٰ پر نازاں ہو، یا اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ہم کو کھلاتا اور پلاتا ہے، اور خیریت اور عافیت سے ہماری صبح اور شام گزارتا ہے، اے اللہ! ہم تیرے احسان اور نعمت کا شکر جتنا شکر کریں سب کم ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3711
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي مَالِكُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: وَدَخَلَ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ" , قَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , قَالَ:" كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ؟" , قَالُوا: بِخَيْرٍ نَحْمَدُ اللَّهَ , فَكَيْفَ أَصْبَحْتَ بِأَبِينَا وَأُمِّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَصْبَحْتُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ".
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے تو فرمایا: «السلام عليكم» انہوں نے (جواب میں) «وعليك السلام ورحمة الله وبركاته» کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كيف أصبحتم» آپ نے صبح کیسے کی؟ جواب دیا: «بخير نحمد الله» خیریت سے کی اس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، لیکن آپ نے کیسے کی؟ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الحمد لله» میں نے بھی خیریت کے ساتھ صبح کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3711]
حضرت ابو اسید (مالک بن ربیعہ) ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے تو فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» تم پر سلامتی ہو، انہوں نے (حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر حاضرین رضی اللہ عنہم نے) کہا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» اور آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری صبح کیسی ہوئی؟ (کیا حال ہے؟) انہوں نے کہا: خیریت سے ہوئی، ہم اللہ کا شکر کرتے ہیں۔ آپ کی صبح کیسی ہوئی؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری صبح بھی خیریت سے ہوئی، میں اللہ کی حمد کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11193، ومصباح الزجاجة: 1294) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد اللہ بن عثمان مستور راوی ہیں، امام بخاری فرماتے ہیں، «مالک بن حمزہ عن أبیہ عن جدہ أن النبی ﷺ دعا للعباس، الحدیث لایتابع علیہ» اس کا کوئی متابع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن عثمان بن إسحاق: مستور (تقريب: 3464)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 510

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں