🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ: الرُّؤْيَا إِذَا عُبِرَتْ وَقَعَتْ فَلاَ يَقُصُّهَا إِلاَّ عَلَى وَادٍّ
باب: جب خواب کی تعبیر بیان کر دی جائے تو اسی طرح واقع ہو جاتی ہے اس لیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3914
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ الْعُقَيْلِيِّ , عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ , فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَتْ" , قَالَ:" وَالرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" , قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ:" لَا يَقُصُّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ".
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندہ کے پیر پر ہوتا ہے، پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۱؎، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: تم خواب کو صرف اسی شخص سے بیان کرو جس سے تمہاری محبت و دوستی ہو، یا وہ صاحب عقل ہو ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3914]
حضرت ابو رزین (لقیط بن صبرہ عقیلی) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: خواب کی جب تک تعبیر بیان نہ کی جائے اس وقت تک وہ (گویا) پرندے کے پاؤں میں ہوتا ہے۔ جب تعبیر کر دی جائے تو واقع ہو جاتا ہے۔ اور فرمایا: خواب نبوت کے چالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اور غالباً یہ بھی فرمایا: خواب صرف اسی کو سنائے جو محبت رکھنے والا یا سمجھ دار ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 96 (5020)، سنن الترمذی/الرؤیا 6 (2278، 2279)، (تحفة الأشراف: 11174)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/10، 11، 12، 13)، سنن الدارمی/الرؤیا 11 (2194) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جب تک اس خواب کی تعبیر بیان نہیں کی جاتی اس وقت تک یہ خواب معلق رہتا ہے، اور اس کے لیے ٹھہراو نہیں ہوتا، تعبیر آ جانے کے بعد ہی اسے قرا رحاصل ہوتا ہے۔
۲؎: خواب کی تعبیر بتانے والا رائے سلیم اور فہم مستقیم رکھتا ہو، بہتر ہے کہ آدمی اپنا خواب اس شخص سے بیان کرے جو علاوہ محبت اور عقل کے علم تعبیر سے بھی واقف ہو، یہ ایک الگ اور مستقل علم ہو گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں