سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: كَيْفَ يَسْتَاكُ
باب: مسواک کس طرح کی جائے؟
حدیث نمبر: 3
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَهُوَ يَسْتَنُّ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ وَهُوَ يَقُولُ: عَأْ عَأْ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا سرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر تھا، اور آپ: «عأعأ» کی آواز نکال رہے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 3]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ دانت صاف کر رہے تھے اور مسواک کا سرا آپ کی زبان مبارک پر تھا اور آپ «عَأْ عَأْ» کر رہے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 3]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 73 (244)، صحیح مسلم/الطہارة 15 (254)، سنن ابی داود/فیہ 26 (49)، (تحفة الأشراف: 9123) وقد أخرجہ: مسند احمد 4/417 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حلق صاف کر رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه