سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: الإِبْعَادِ عِنْدَ إِرَادَةِ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے لیے دور جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَلَاءِ، وَكَانَ" إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ".
عبدالرحمٰن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا، اور آپ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو دور جاتے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 16]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو دور جاتے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 16]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 22 (334)، (تحفة الأشراف: 9733)، مسند احمد 3/443 و 4/224، 237 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ لوگ آپ کو دیکھ نہ سکیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ. قَالَ: فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَقَالَ:" ائْتِنِي بِوَضُوءٍ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ". قَالَ الشَّيْخُ إِسْمَاعِيلُ: هُوَ ابْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَارِئُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو دور جاتے، مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے ایک سفر میں قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے (تو واپس آ کر) آپ نے فرمایا: ”میرے لیے وضو کا پانی لاؤ“، میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا، تو آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ امام نسائی کہتے ہیں اسمائیل سے مراد: ابن جعفر بن ابی کثیر القاری ہیں۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 17]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جاتے۔ انہوں نے کہا: ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ قضائے حاجت کے لیے گئے تو مجھ سے فرمایا: ”میرے پاس وضو کے لیے پانی لاؤ۔“ میں پانی لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا۔ شیخ ابن سنی رحمہ اللہ نے فرمایا: (سند میں مذکور راوی) اسماعیل سے مراد (اسماعیل القاری) ابن جعفر بن ابوکثیر ہیں۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 17]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 1 (1)، سنن الترمذی/فیہ 16 (20)، سنن ابن ماجہ/فیہ 22 (331)، (تحفة الأشراف: 11540)، مسند احمد 3/443، 4/224، 237، 248، سنن الدارمی/الطہارة 4 (686) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح