سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ: الاِجْتِزَاءِ فِي الاِسْتِطَابَةِ بِالْحِجَارَةِ دُونَ غَيْرِهَا
باب: صرف پتھر اور ڈھیلے سے استنجاء کے کافی ہونے اور پانی کے ضروری نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 44
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَلْيَسْتَطِبْ بِهَا فَإِنَّهَا تَجْزِي عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں“۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 44]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کو جائے تو اپنے ساتھ تین ڈھیلے لے جائے اور ان سے صفائی کرے، وہ اسے کافی ہوں گے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 44]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 21 (40)، (تحفة الأشراف: 16757)، مسند احمد 6/ 108، 133، سنن الدارمی/الطہارة 11 (697) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن