سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. بَابُ: الأَمْرِ بِالاِسْتِنْثَارِ
باب: ناک جھاڑنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے تو اسے چاہیئے کہ ناک جھاڑے، اور جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو اسے چاہیئے کہ طاق استعمال کرے“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 88]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے، اسے چاہیے کہ وہ ناک جھاڑے۔ اور جو شخص (استنجے کے لیے) ڈھیلے استعمال کرے، اسے چاہیے کہ وہ طاق استعمال کرے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 88]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 25 (161)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، سنن ابن ماجہ/فیہ 44 (409)، (تحفة الأشراف: 13547)، موطا امام مالک/فیہ1 (3)، مسند احمد 2/236، 277، 308، 401، 518، سنن الدارمی/الطہارة 32 (730) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 89
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَاسْتَنْثِرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلا استعمال کرو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 89]
حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو وضو کرے تو ناک جھاڑ اور جب تو (قضائے حاجت کے بعد) ڈھیلے استعمال کرے تو طاق استعمال کر۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 89]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 21 (27)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 44 (406)، (تحفة الأشراف: 4556)، مسند احمد 4/313، 339، 340 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح