سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
113. بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ
باب: پاخانہ اور پیشاب سے وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 158
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَجُلًا يُدْعَى صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقَعَدْتُ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: أَطْلُبُ الْعِلْمَ، قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ، فَقَالَ: عَنْ أَيِّ شَيْءٍ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: عَنِ الْخُفَّيْنِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ،" أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ".
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے پاس آیا جسے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، میں ان کے دروازہ پر بیٹھ گیا، تو وہ نکلے، تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: طالب علم کے لیے فرشتے اس چیز سے خوش ہو کر جسے وہ حاصل کر رہا ہو اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، پھر پوچھا: کس چیز کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: دونوں موزوں کے متعلق کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم انہیں تین دن تک نہ اتاریں، الاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے، لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند (تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں)۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 158]
حضرت زر بن حبیش رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے پاس گیا جنہیں صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا۔ میں (انتظار میں) ان کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ آپ باہر تشریف لائے تو پوچھا: ”کیسے آئے ہو؟“ میں نے کہا: ”طلب علم کے لیے۔“ انہوں نے فرمایا: ”فرشتے طالب علم کے طلب علم پر رضا مندی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پر جھکاتے ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟“ میں نے کہا: ”موزوں کے بارے میں۔“ انہوں نے فرمایا: ”جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (کسی سفر میں) ہوتے تھے تو آپ ہمیں فرماتے تھے کہ ہم تین دن تک پیشاب یا پاخانے اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتاریں لیکن جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 126، (تحفة الأشراف: 4952) (حسن)»
وضاحت: یعنی اگر جنابت لاحق ہو جائے تو اتارنے ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن