سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
136. بَابُ: ذِكْرِ اغْتِسَالِ الْمُسْتَحَاضَةِ
باب: مستحاضہ کے غسل کا بیان۔
حدیث نمبر: 214
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال شُعْبَةُ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهَا:" أَنَّهُ عِرْقٌ عَانِدٌ، فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا وَاحِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مستحاضہ عورت سے کہا گیا کہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے جو رکتا نہیں، چنانچہ اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر دیر سے پڑھے اور عصر جلدی پڑھ لے، اور دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب دیر سے پڑھے اور عشاء جلدی پڑھے، اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 112 (294)، مسند احمد 6/172، سنن الدارمی/الطہارة 84 (803)، (تحفة الأشراف: 17495)، ویاتي عند المؤلف برقم: 360 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح