سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
161. بَابُ: غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ فِي غَيْرِ الْمَكَانِ الَّذِي يَغْتَسِلُ فِيهِ
باب: غسل کی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 254
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، قالت: أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ بِيَمِينِهِ فِي الْإِنَاءِ، فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ ثُمَّ غَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، قَالَتْ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی لا کر رکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار اپنے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور سے ملا، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر پر تین لپ بھربھر کر ڈالا، پھر اپنے پورے جسم کو دھویا، پھر آپ اپنی جگہ سے الگ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں تولیہ لے کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 254]
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کے لیے پانی قریب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو دو یا تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس سے اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ زمین پر مارا اور اسے زور سے رگڑا، پھر نماز والا وضو کیا، پھر اپنے سر پر دونوں ہاتھ بھر بھر کر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر اپنے باقی (سارے) جسم کو دھویا، پھر اس جگہ سے ایک طرف ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رومال لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، 5 (257)، 7 (259)، 8 (260)، 10 (265)، 11 (266)، 16 (274)، 18 (276)، 21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (245)، سنن الترمذی/فیہ 76 (103)، سنن ابن ماجہ/فیہ 94 (573)، (تحفة الأشراف: 18064)، مسند احمد (6/329، 330، 335، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 40 (738)، 67 (774)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 408، 418، 419، 428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه