🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

192. بَابُ: فَرْثِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: حلال جانوروں کے لید، گوبر کپڑوں میں لگ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيم، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَمَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ جُلُوسٌ وَقَدْ نَحَرُوا جَزُورًا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَيُّكُمْ يَأْخُذُ هَذَا الْفَرْثَ بِدَمِهِ، ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى يَضَعَ وَجْهَهُ سَاجِدًا فَيَضَعُهُ يَعْنِي عَلَى ظَهْرِهِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَانْبَعَثَ أَشْقَاهَا، فَأَخَذَ الْفَرْثَ فَذَهَبَ بِهِ ثُمَّ أَمْهَلَهُ فَلَمَّا خَرَّ سَاجِدًا وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَأُخْبِرَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ جَارِيَةٌ، فَجَاءَتْ تَسْعَى فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً مِنْ قُرَيْشٍ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ فِي قَلِيبٍ وَاحِدٍ.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، اور قریش کے کچھ شرفاء بیٹھے ہوئے تھے، اور انہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا ۱؎: تم میں سے کون ہے جو یہ خون آلود اوجھڑی لے کر جائے، پھر کچھ صبر کرے حتیٰ کہ جب آپ اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیں، تو وہ اسے ان کی پشت پر رکھ دے، تو ان میں کا سب سے بدبخت (انسان) کھڑا ہوا ۲؎، اور اس نے اوجھڑی لی، اور آپ کے پاس لے جا کر انتظار کرتا رہا، جب آپ سجدہ میں چلے گئے تو اس نے اسے آپ کی پشت پر ڈال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمسن بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر ملی، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اسے ہٹایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے تین مرتبہ کہا: «اللہم عليك بقريش» ”اے اللہ! قریش کو ہلاک کر دے“، «اللہم عليك بقريش»، ‏ «اللہم عليك بأبي جهل بن هشام وشيبة بن ربيعة وعتبة بن ربيعة وعقبة بن أبي معيط» ”اے اللہ! ابوجہل بن ہشام، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط سے تو نپٹ لے“ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سات ۳؎ لوگوں کا گن کر نام لیا، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا، میں نے انہیں بدر کے دن ایک اوندھے کنویں میں مرا ہوا دیکھا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 308]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”(ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور قریش کے سردار بھی بیٹھے تھے۔ کسی نے ایک اونٹ ذبح کیا تھا۔ ان میں سے کسی نے کہا: ”کون ہے جو یہ گوبر خون سمیت اٹھا کر لائے، پھر کچھ صبر کرے حتیٰ کہ جب آپ سجدے میں چہرہ رکھیں تو آپ کی پشت پر رکھ دے؟“”حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”چنانچہ ایک بدبخت اٹھا، گوبر (وغیرہ) اٹھا کر لایا، پھر ذرا ٹھہرا۔ جب آپ سجدے میں گر پڑے تو اس نے وہ (سب کچھ) آپ کی پشت پر رکھ دیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کی گئی جبکہ وہ چھوٹی لڑکی تھیں۔ وہ بھاگی بھاگی آئیں اور یہ گندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے ہٹا دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو تین دفعہ فرمایا: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ”اے اللہ! قریش کو ہلاک کر دے۔“ «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ» ”یا اللہ! ابوجہل بن ہشام، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط کو ہلاک کر دے۔“”حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات قریشیوں کے نام لیے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”قسم اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل فرمایا! میں نے ان سب کو بدر کے دن ایک کنویں میں مردہ پڑے پایا۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 69 (240)، والصلاة 109 (520)، والجھاد 98 (2934)، والجزیة 21 (3185)، ومناقب الأنصار 29 (3854)، صحیح مسلم/الجھاد 39 (1794)، (تحفة الأشراف 9484)، مسند احمد 1/ 393، 397، 417 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم کی تصریح کے مطابق وہ ابوجہل تھا۔ ۲؎: اس سے مراد ”عقبہ بن ابی معیط“ ہے جیسا کہ مسند ابوداؤد طیالسی میں اس کی صراحت ہے۔ ۳؎: چار تو وہ ہیں جن کا ذکر خود حدیث میں آیا ہے اور باقی تین یہ ہیں: ولید بن عتبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں