سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
194. بَابُ: بَدْءِ التَّيَمُّمِ
باب: تیمم کی ابتداء کا بیان۔
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ ذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي،" فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَمَا مَنَعَنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ". فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے، تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے، آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، نہ وہاں پانی تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا، تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے کہنے لگے کہ عائشہ نے جو کیا ہے کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں پانی نہیں ہے، اور نہ ان کے پاس ہی پانی ہے، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے، تو وہ کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے، نہ ہی ان کے پاس پانی ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری سرزنش کی، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کہلوانا چاہا انہوں نے کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، میں صرف اس وجہ سے نہیں ہلی کہ میری ران پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہو گئی، پھر اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے آل ابوبکر! یہ آپ کی پہلی ہی برکت نہیں، پھر ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا، تو ہمیں ہار اسی کے نیچے ملا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 311]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، حتیٰ کہ جب ہم بیداء یا ذات الجیش مقام پر پہنچے تو میرا ہار گر گیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے۔ لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے، جب کہ نہ وہاں پانی تھا اور نہ ان کے پاس پانی تھا۔ کچھ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور (شکایتاً) کہا: ”آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو ٹھہرا لیا ہے، جب کہ نہ تو یہاں پانی ہے اور نہ ان کے پاس پانی ہے۔“ (یہ باتیں سن کر) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سو رہے تھے۔ وہ آکر کہنے لگے: ”تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو روک رکھا ہے، جب کہ نہ یہاں پانی ہے اور نہ ان کے پاس پانی ہے۔“ مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خوب ڈانٹا اور جو کہنا چاہا، کہا اور وہ میرے پہلو میں کچوکے مارنے لگے۔ میں حرکت کرنے سے صرف اس لیے رکی رہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، حتیٰ کہ بغیر پانی کے صبح ہو گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے تیمم والی آیت اتار دی۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”پھر ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں تھی تو ہار اس کے نیچے سے مل گیا۔““ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التیمم 1 (334)، 2 (336)، وفضائل الصحابة 5 (3672)، 30 (3773)، وتفسیر النساء 10 (4583)، وتفسیر المائدہ 3 (4607)، وانکاح 126 (5250)، واللباس 58 (5882)، والحدود 39 (6844)، صحیح مسلم/الحیض 28 (367)، (تحفة الأشراف 17519)، وقدأخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة 123 (317)، سنن ابن ماجہ/فیہ 90 (568)، موطا امام مالک/فیہ 23 (89)، مسند احمد 6/57، 179، 272، 273، سنن الدارمی/الطھارة 66/773 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه