سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ: مَا تَفْعَلُ النُّفَسَاءُ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: نفاس والی عورتیں احرام کے وقت کیا کریں؟
حدیث نمبر: 392
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" مُرْهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انہیں حکم دو کہ غسل کر لیں، اور احرام باندھ لیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 392]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بارے میں روایت ہے، جب انہیں ذوالحلیفہ (مدینہ والوں کے احرام باندھنے کی جگہ) میں بچہ پیدا ہوا تھا، کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اسے کہو کہ وہ غسل کرے اور احرام باندھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 215 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ حیض یا نفاس کا آ جانا احرام کے لیے مانع نہیں ہے، جس عورت کو اس قسم کا عارضہ پیش آ جائے وہ غسل کر کے احرام باندھ لے، اور طواف کے علاوہ باقی سارے ارکان ادا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح