سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: عَدَدِ صَلاَةِ الظُّهْرِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر میں ظہر کی نماز کی تعداد کا بیان۔
حدیث نمبر: 470
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسًا، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ".
ابن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 470]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعت پڑھی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 5 (1089)، والحج 24 (1547)، 25 (1548)، 119 (1714)، والجہاد 104 (2951)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین 1 (690)، سنن ابی داود/الصلاة 271 (1202)، والمناسک 21 (1773)، سنن الترمذی/الصلاة 391 (546)، (تحفة الأشراف: 166، 1573)، مسند احمد 3/110، 111، 177، 186، 237، 268، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1549) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قصر اس لیے پڑھی کہ آپ حج کے لیے مکہ جا رہے تھے، نہ اس لیے کہ ذوالحلیفہ قصر کی حد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه