سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ: وَقْتِ أَذَانِ الصُّبْحِ
باب: صبح کی اذان کا وقت۔
حدیث نمبر: 643
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصُّبْحِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ الْفَجْرَ حَتَّى أَسْفَرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وَقْتُ الصَّلَاةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کی اذان کا وقت پوچھا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہونے کے بعد اذان دی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو انہوں نے فجر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ خوب اجالا ہو گیا، پھر آپ نے انہیں (اقامت کا) حکم دیا، تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ نے نماز پڑھائی پھر فرمایا: ”یہ ہے فجر کا وقت“۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 643]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح کے وقت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے (پہلے دن) بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے اذان کہی جونہی فجر طلوع ہوئی۔ جب اگلا دن ہوا تو آپ نے فجر کی نماز کو مؤخر کیا حتیٰ کہ خوب روشنی ہوگئی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، پھر آپ نے نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا: ”یہ ہے نماز صبح کا وقت (یعنی کل اور آج کی نمازوں کے درمیان)۔“ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 815)، مسند احمد 3/121 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن