سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: الأَذَانِ لِمَنْ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي وَقْتِ الأُولَى مِنْهُمَا
باب: نماز میں جمع تقدیم کے لیے پہلی نماز کے وقت اذان کا بیان۔
حدیث نمبر: 656
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى بَطْنِ الْوَادِي خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ" أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا (اور آپ سوار ہو کر چلے) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 656]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے حتیٰ کہ عرفہ میں آئے تو وہاں وادیٔ نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا پایا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اترے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی) قصواء پر پالان کسا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نشیب میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہی تو عصر کی نماز پڑھائی اور ان کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث حدیث رقم: 605 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”نمرہ“ عرفات کی حدود سے پہلے ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح