سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: اتِّخَاذِ الْمُؤَذِّنِ الَّذِي لاَ يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا
باب: اجرت نہ لینے والے آدمی کو مؤذن مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 673
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ:" أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا".
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے امام ہو (لیکن) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ۱؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 673]
حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے امام ہو۔ نماز پڑھاتے وقت ان میں سے کمزور ترین آدمی کا لحاظ رکھنا اور ایسا مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر تنخواہ نہ لیتا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 40 (531)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (987)، (تحفة الأشراف: 9770)، مسند احمد 4/21 (217، 218)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 37 (468) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح