🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِـ {ق}
باب: نماز فجر میں سورۃ «‏‏‏‏ق» ‏‏‏‏ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 950
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قالت:" مَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ".
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے «ق، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سن سن کر) یاد کیا ہے، آپ اسے فجر میں (بکثرت) پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 950]
حضرت ام ہشام رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سورۂ ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز پڑھتے ہوئے) سیکھی کیونکہ آپ اسے (اکثر) صبح کی نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18363)، مسند احمد 6/463 (شاذ) (اس کے راوی ’’ابن ابی الرجال‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں اس لیے کبھی غلطی کر جاتے تھے، اور یہاں کر بھی گئے ہیں، محفوظ یہ ہے کہ منبر پر خطبہ میں پڑھنے کی بات ہے، جیسا کہ مؤلف کے یہاں بھی آ رہا ہے، دیکھئے رقم: 1412)»
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أن ذلك كان في خطبة الجمعة
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 951
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَاللَّفْظُ لَهُ قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قال: سَمِعْتُ عَمِّي يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ" فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ"، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُهُ فِي السُّوقِ فِي الزِّحَامِ فَقَالَ ق.
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎، شعبہ کہتے ہیں: میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا: سورۃ «ق» پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 951]
حضرت زیاد بن علاقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے چچا سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے ایک رکعت میں ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ﴾ [سورة ق: 10] اور کھجوروں کے لمبے لمبے درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہوں گے۔ پڑھی۔ شعبہ نے کہا: میں زیاد سے بازار میں ہجوم میں ملا تو انہوں نے کہا: سورۂ ق پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 35 (457)، سنن الترمذی/فیہ 112 (306)، سنن ابن ماجہ/إقامة 5 (816)، (تحفة الأشراف: 11087)، مسند احمد 4/322، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1334، 1335) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ سورۃ پڑھی جس میں یہ آیت ہے جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں