سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: تَعْظِيمِ الرَّبِّ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1046
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے“، پھر فرمایا: ”سنو! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1046]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (دروازے کا) پردہ ہٹایا جب کہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں باندھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! نبوت سے مخصوص خوش خبری دینے والی چیزوں میں سے اب نیک اور سچے خواب ہی رہ گئے ہیں جو کوئی مسلمان خود دیکھ لے یا اس کے لیے کسی اور کو نظر آئے۔“ پھر فرمایا: ”خبردار! مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن مجید پڑھنے سے روکا گیا ہے، چنانچہ رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں دعا مانگنے کی کوشش کرو (پورا زور لگا دو کیونکہ) سجدے میں دعا قبولیت کے زیادہ لائق ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 41 (479)، سنن ابی داود/فیہ 152 (876)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 1 (3899)، (تحفة الأشراف: 5812)، مسند احمد 1/219، سنن الدارمی/الصلاة 77 (1364، 1365)، ویأتی عند المؤلف في باب62 (برقم: 1121) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم