🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. بَابُ: مَا يَقُولُ فِي قِيَامِهِ ذَلِكَ
باب: رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد قیام میں کیا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1067
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده‏» کہتے، تو «‏اللہم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» اے اللہ! تیری تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1067]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب (رکوع سے اٹھتے وقت) «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» کہتے تو یوں فرماتے: «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے، اس قدر کہ آسمان و زمین بھر جائیں اور ہر وہ چیز بھر جائے جو تو ان کے بعد چاہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 40 (478)، (تحفة الأشراف: 5954)، مسند احمد 1/270، 276، 277، 333، 370 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1068
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدے کا ارادہ کرتے تو «‏اللہم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» اے ہمارے رب! تیری تعریف ہے، تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1068]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو یوں کہتے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اے اللہ! اے ہمارے پالنے والے! تیرے ہی لیے ہے سب تعریف جو آسمانوں اور زمین کو بھرنے کے برابر ہو اور ہر اس چیز کو بھرنے کے برابر ہو جو تو ان کے بعد چاہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5642، حم1/277، 333 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1069
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ خَيْرُ مَا قَالَ: الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لَا مَانِعَ لَمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ، ہمارے رب! تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر، اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے، اے لائق تعریف و لائق مجد و شرف! بہتر ہے جو بندے نے کہا، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں جسے تو دیدے، تیرے مقابلے میں مالداروں کی مالداری کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1069]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» کہتے تو یوں فرماتے: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے آسمانوں اور زمینوں کے بھرنے کے بقدر اور ہر اس چیز کے بھرنے کے بقدر جو تو ان کے بعد چاہے۔ اے بزرگی اور ثنا کے لائق! بہترین بات جو کسی بندے نے کہی، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، یہ ہے کہ جو چیز تو دینے کا فیصلہ کرلے کوئی اسے روکنے والا نہیں اور کسی مال والے کو اس کا مال تیرے نزدیک نفع نہیں دے سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 40 (477)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (847)، (تحفة الأشراف: 4281)، مسند احمد 3/87، 71 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1070
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَمِعَهُ حِينَ كَبَّرَ قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ ذَا الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّي اغْفِرْ لِي رَبِّي اغْفِرْ لِي وَكَانَ قِيَامُهُ وَرُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر کہی تو انہوں نے آپ کو کہتے سنا: «اللہ أكبر ذا الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة‏» اللہ سب سے بڑا صاحب قدرت و سطوت اور صاحب بزرگی و عظمت ہے، اور آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو: «لربي الحمد لربي الحمد»، شکر میرے رب کے لیے، شکر میرے رب کے لیے کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» اے میرے رب! میری مغفرت فرما، اے میرے رب! میری مغفرت فرما کہتے، اور آپ کا قیام کرنا، رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا، اور آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1070]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرمائی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: «اللهُ أَكْبَرُ ذُو الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» اللہ سب سے بڑا ہے، اے عظیم الشان غلبے اور بادشاہی والے! (بے انتہا) بزرگی (بڑائی) اور عظمت کے مالک!۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں فرماتے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» پاک ہے میرا عظمت والا رب۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: «لِرَبِّيَ الْحَمْدُ، لِرَبِّيَ الْحَمْدُ» میرے رب ہی کے لیے ہے سب تعریف۔ میرے رب ہی کے لیے ہے سب تعریف۔ اور اپنے سجدے میں فرماتے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ» پاک ہے میرا بزرگ و برتر رب۔ اور دو سجدوں کے درمیان فرماتے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي» اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔ اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام، رکوع، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قومہ، سجدہ اور دو سجدوں کے درمیان وقفہ (جلسۂ استراحت) تقریباً برابر تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 151 (874)، سنن الترمذی/الشمائل 39 (260)، (تحفة الأشراف: 3395)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 23 (897)، من قولہ: ’’کان یقول بین السجدتین‘‘ ویأتی عند المؤلف برقم: 1146 (صحیح) (سند میں ’’رجل‘‘ جو مبہم راوی ہے بقول شعبہ ’’صلہ بن زفر‘‘ ہے، نیز کئی اس کے متابعات بھی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں