سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ: الأَمْرِ بِالاِجْتِهَادِ فِي الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں دعا میں کوشش کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1121
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلَا وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا رَبَّكُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی پردہ ہٹایا، آپ کا سر مبارک کپڑے سے بندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ! میں نے پہنچا دیا (پھر فرمایا:) نبوت کی خوش خبریوں میں سے سوائے سچے خواب کے جسے بندہ خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ گئی ہے، سنو! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور جب سجدہ کرو تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ یہ حالت اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1121]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرضِ وفات میں گھر کی کھڑکی کا پردہ ہٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک پٹی سے باندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں نے تیرا دین لوگوں تک پہنچا دیا“ (تین دفعہ فرمایا)۔ ”اے لوگو! نبوت کے ذریعے سے خوشخبری دینے والی چیزوں میں سے صرف نیک خواب ہی رہ گئے ہیں جنہیں کوئی شخص خود دیکھ لے یا اس کے لیے کسی دوسرے کو نظر آئیں۔ خبردار! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن مجید پڑھنے سے روک دیا گیا ہے، لہٰذا جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو (تسبیحات پڑھو) اور جب سجدہ کرو تو پوری کوشش سے دعا کرو کیونکہ سجدے کی دعا قبولیت کے بہت لائق ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1046، (تحفة الأشراف: 5812) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح