سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1282
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيْمَنُ ابْنُ نَابِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ , السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ أَيْمَنَ بْنَ نَابِلٍ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ , وَأَيْمَنُ عِنْدَنَا لَا بَأْسَ بِهِ , وَالْحَدِيثُ خَطَأٌ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تشہد اسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے «بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأن محمدا عبده ورسوله وأسأل اللہ الجنة وأعوذ به من النار» ”اللہ کے نام سے اور اسی کے واسطے سے، تمام قولی فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو آپ پر، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اللہ سے جنت مانگتا ہوں، اور آگ (جہنم) سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اس روایت پر ایمن بن نابل کی متابعت کی ہو، ایمن ہمارے نزدیک قابل قبول ہیں، لیکن حدیث میں غلطی ہے، ہم اللہ سے توفیق کے طلب گار ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1282]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس طرح تشہد سکھاتے تھے جیسے ہمیں قرآن مجید کی سورت سکھاتے تھے: «بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ، التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ» ”اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ۔ تمام آداب، دعائیں اور پاکیزہ کلمات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔“ امام ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کسی دوسرے راوی نے اس روایت میں ایمن بن نابل کی موافقت کی ہو۔ ایمن ہمارے نزدیک معتبر راوی ہے، لیکن یہ روایت درست نہیں۔ اور توفیق اللہ تعالیٰ کی مدد ہی سے ملتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1176 (ضعیف) (اس کے راوی ’’أیمن‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں اور اس میں وارد اضافہ پر کسی نے ان کی متابعت نہیں کی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1176) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331