🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

103. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ
باب: نماز پڑھنے اور فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہنے والے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1365
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ , فَلَمْ يَقُمْ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ , فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ كَانَتْ سَادِسَةٌ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا , فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ نَفَلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ , قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ" , قَالَ: ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا , فَلَمَّا بَقِيَ ثُلُثٌ مِنَ الشَّهْرِ أَرْسَلَ إِلَى بَنَاتِهِ وَنِسَائِهِ وَحَشَدَ النَّاسَ , فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ دَاوُدُ , قُلْتُ: مَا الْفَلَاحُ , قَالَ: السُّحُورُ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے (اور پڑھاتے رہے) یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے (اور پڑھاتے رہے) یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے، آپ نے فرمایا: آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے، پھر چوتھی رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے نہیں کھڑے ہوئے، پھر جب رمضان کے مہینہ کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو کہلا بھیجا اور لوگوں کو بھی جمع کیا، اور ہمیں تراویح پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خوف ہوا کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، پھر اس کے بعد مہینہ کے باقی دنوں میں آپ نے ہمیں تراویح نہیں پڑھائی۔ داود بن ابی ہند کہتے ہیں: میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ تو انہوں نے (ولید بن عبدالرحمٰن نے) کہا: سحری کھانا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1365]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رات کو (تراویح کی) نماز پڑھائی حتیٰ کہ رات کا تقریباً تیسرا حصہ گزر گیا۔ پھر چوبیسویں رات ہوئی تو ہمیں نماز نہیں پڑھائی۔ جب پچیسویں رات ہوئی تو پھر ہمیں نماز پڑھائی حتیٰ کہ تقریباً نصف رات گزر گئی۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ساری رات ہمیں نفل نماز پڑھاتے رہتے تو کیا ہی خوب ہوتا۔ آپ نے فرمایا: جب کوئی شخص امام کے ساتھ نماز پڑھے اور امام کے واپس جانے تک ساتھ رہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔ پھر چھبیسویں رات ہوئی تو آپ نے ہمیں نفل نماز نہ پڑھائی۔ جب ماہ مقدس کے تین دن باقی رہ گئے (یعنی ستائیسویں رات کو) تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو بھی بلا بھیجا اور بہت لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے ہمیں نفل نماز پڑھائی حتیٰ کہ ہمیں خطرہ محسوس ہوا کہ «الْفَلَاحُ» فلاح رہ جائے گی۔ پھر اس کے بعد اس ماہ مقدس کی کسی رات کو ہمیں نفل نماز (تراویح) نہیں پڑھائی۔ (راویٔ حدیث) داود (بن ابو ہند) نے کہا: میں نے (اپنے استاد ولید سے) پوچھا: «الْفَلَاحُ» فلاح کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سحری ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 318 (1375)، سنن الترمذی/الصوم 81 (806)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 173 (1327)، (تحفة الأشراف: 11903)، مسند احمد 5/159، 163، سنن الدارمی/الصوم 54 (1818، 1819)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1606 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں