سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: إِحْيَاءِ اللَّيْلِ
باب: شب بیداری کا بیان۔
حدیث نمبر: 1639
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، وَبَقِيَّةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَاقَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ كُلَّهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا".
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (وہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے) کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری رات نماز پڑھتے دیکھا یہاں تک کہ فجر ہو گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز سے سلام پھیرا، تو خباب رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے آج رات ایسی نماز پڑھی کہ اس طرح میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہ رغبت اور خوف کی نماز تھی، میں نے اپنے رب سے اس میں تین باتوں کی درخواست کی، تو اس نے دو مجھے دے دیں اور ایک نہیں دی، میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اس چیز کے ذریعہ ہلاک نہ کرے جس کے ذریعہ اس نے ہم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کیا، تو اس نے یہ مجھے دے دی، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ کسی دشمن کو جو ہم میں سے نہ ہو ہم پر غالب نہ کرے، تو اسے بھی اس نے مجھے دے دیا، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہم میں پھوٹ نہ ڈالے، اور ہم گروہ در گروہ نہ ہوں، تو اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1639]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے، انہوں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغور دیکھا کہ آپ ساری رات نماز پڑھتے رہے، حتیٰ کہ فجر ہوگئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز سے سلام پھیرا (فارغ ہوئے) تو خباب رضی اللہ عنہ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آج رات آپ نے اتنی نماز پڑھی ہے کہ میں نے آپ کو اتنی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ «رَغْبَةً وَرَهْبَةً» ”رغبت اور رہبت (خوفِ الہٰی)“ والی نماز تھی۔ میں نے اس میں اپنے رب تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں دے دیں، ایک نہیں دی۔ میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا تھا کہ ہمیں ان عذابوں سے ہلاک نہ کرے جن کے ساتھ پہلی امتوں کو ہلاک کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے میری یہ بات مان لی۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ ہم پر ہمارے کافر دشمنوں کو مکمل غلبہ نہ دے۔ اللہ تعالیٰ نے میری یہ بات بھی مان لی، پھر میں نے اپنے رب سے یہ سوال کیا کہ ہمیں گروہوں اور فرقوں میں نہ بانٹ دینا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات نہیں مانی۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 14 (2175)، (تحفة الأشراف: 3516)، مسند احمد 5/108 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح