🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ: الأَمْرِ بِالْوِتْرِ
باب: وتر پڑھنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1676
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ:" يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی، پھر فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھو ۱؎ کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر ہے، اور وتر کو محبوب رکھتا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1676]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ وتر پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (اکیلا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 336 (1416)، سنن الترمذی/الصلاة 216 (الوتر 2) (453، 454)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 114 (1169)، (تحفة الأشراف: 10135)، مسند احمد 1/86، 98، 100، 107، 110، 115، 120، 143، 144، 148، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1620) (صحیح) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مختلط ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے، مگر متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تراجع الالبانی 482)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو اہل قرآن کہا گیا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ حدیث کو نہیں مانتے تھے بلکہ یہاں اہل قرآن کا مطلب شریعت اسلامیہ کے پیروکار ہیں، اور شریعت قرآن و حدیث دونوں کے مجموعہ کا نام ہے نہ کہ حدیث کے بغیر صرف قرآن کا۔ ۲؎: طیبی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں وتر سے مراد قیام اللیل ہے، کیونکہ وتر کا اطلاق قیام اللیل پر بھی ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1416) ترمذي (453) ابن ماجه (1119) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1677
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال:" الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1677]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر کی نماز فرض نماز کی طرح واجب نہیں بلکہ یہ سنت (مؤکدہ) ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے جاری فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 216 (الوتر 2) (554)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 114، حم1/86، 98، 100، 107، 115، 144، 145، 148، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1620) (صحیح) (دیکھئے پچھلی حدیث پر کلام)»
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ وتر واجب نہیں جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں