سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ: مَنْ كَانَ لَهُ صَلاَةٌ بِاللَّيْلِ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا النَّوْمُ
باب: جسے رات میں تہجد پڑھنی ہو اور نیند اس پر غالب آ جائے اور نہ پڑھ سکے۔
حدیث نمبر: 1785
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ عِنْدَهُ رِضًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنَ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِلَيْلٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ , وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ".
سعید بن جبیر ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے اس نے انہیں خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی آدمی رات کو تہجد پڑھا کرتا ہو، پھر کسی دن نیند کی وجہ سے وہ نہ پڑھ سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتا ہے، اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1785]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہیں ان کے نزدیک پسندیدہ شخص نے بتایا کہ ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو رات کو نفل نماز پڑھنے کی عادت ہو، پھر کسی دن اس پر نیند غالب آ جائے (اور وہ نفل نماز نہ پڑھ سکے) تو اللہ تعالیٰ (اس دن بھی) اس (معمول کی) نماز کا اجر اس کے لیے لکھ دیتا ہے اور اس کی نیند اس کے لیے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) صدقہ بن جاتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 310 (1314)، (تحفة الأشراف: 16007)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 1 (1)، مسند احمد 6/63، 72، 180 (صحیح) (مبہم راوی کا نام آگے آ رہا ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح